Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر حملے کیے تو حوثیوں کا ’فوری اور سخت‘ جوابی کارروائی کا انتباہ

  • 13 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

صنعاء، 13 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) یمن کی حوثی تحریک نے منگل کو دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی حملوں میں حصہ لیا تو امریکہ اور خطے میں اس کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ’فوری اور سخت‘ جواب دیا جائے گا۔

حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انتباہ دیا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔

البخیتی نے کہا، ’’اگر امریکہ یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوتا ہے تو ہم جوابی کارروائی کے فیصلے پر غور کرنے میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا ہدف خطے میں امریکی مفادات ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے تمام ملازمین اور کارکنوں کو ان مقامات سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ اب یہ ’’جائز اہداف‘‘ بن چکے ہیں۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔

دریں اثنا، امریکی صدر نے کہا کہ یمن کے حوثی ’’بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں‘‘ اور انہوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے اوہائیو روانہ ہوتے وقت صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا، ’’حوثی بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

ان کا یہ بیان سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں ہفتے کے آخر میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں، جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سعودی حکام نے ریاض کے ہوائی اڈے پر آپریشن کی معطلی میں ہفتے تک توسیع کر دی ہے۔

ادھر سعودی عرب کے وزیر توانائی نے مملکت کے ہوائی اڈوں اور تیل و گیس کی تنصیبات پر یمن کی ایران حمایت یافتہ حوثی تحریک کے مہلک حملوں کا ’سنجیدہ‘ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں منعقدہ ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’حالیہ ہفتوں کے واقعات سنگین ہیں۔ ہمارا جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔‘‘

یہ کشیدگی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کے بعد بڑھی ہے۔ ان میں ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں سعودی حکام کے مطابق 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

گزشتہ چند روز کے دوران حوثیوں نے سعودی بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والا اتحاد یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

منگل کو اتحاد نے ریاض کے شمال میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع دی اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعاء میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔ اتحاد نے کارروائی سے قبل شہریوں سے ایک مرکزی ایندھن اسٹیشن خالی کرنے کی اپیل بھی کی۔

دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی سے وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ امریکہ کی براہِ راست شمولیت کے امکان نے سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

 

Ads