ترجمان سینٹکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر گزشتہ شام سات بجے فضائی حملے شروع کیے گئے، امریکی فوج نے اپنا بیانیہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ ایران کی دوبارہ ناکہ بندی کے دوران 21 جولائی تک 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، اور امریکی فوج نے ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بھی بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ نے بوشہر کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے کیے، کنارک اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، کرمانشاہ اور خوزستان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، حملوں کی وجہ سے تہران کے مشرق اور شمال مشرق میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
ادھر ایران کی فوج نے مغربی کویت کے کیمپ دوحہ میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، ایرانی فوج نے کہا کہ اس کی افواج نے امریکا کی ’’بار بار جارحیت‘‘ کے جواب میں اڈے پر ’’گولہ بارود کے ڈپو‘‘ اور ’’زمینی فورسز کمانڈ لاجسٹک آلات‘‘ کو نشانہ بنایا۔
بیان میں بتایا گیا کہ کیمپ دوحہ خطے میں امریکی اہلکاروں اور ساز و سامان کے لیے ایک اہم معاون مرکز ہے۔
