لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن کے اراکینِ پارلیمنٹ مکر دروازے پر جمع ہوئے۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کے حق میں نعرے بازی کی۔
احتجاج کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی بنیادی وجہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات ہیں، جن کی مکمل ذمہ داری وزیرِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ بھی تھے جن پر "دھرمیندر پردھان کو برطرف کرو" جیسے نعرے درج تھے۔
اس احتجاج میں کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، گورو گوگوئی، دیپیندر سنگھ ہڈا، گرجیت سنگھ اوجلا، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، دھرمیندر یادو، اودھیش پرساد، رام گوپال یادو، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے اور کلیان بنرجی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ شریک ہوئے۔
