حیدرآباد کی نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس کی جانب سے تیار کردہ اس راکٹ کی پہلی آزمائشی پرواز، جسے "مشن آگمن" کا نام دیا گیا، دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پر شری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز کے پہلے لانچ پیڈ سے روانہ کی گئی۔
36 گھنٹے پر مشتمل ہموار کاؤنٹ ڈاؤن مکمل ہونے کے بعد 22 میٹر بلند اور 40 ٹن وزنی راکٹ لانچ کے لیے تیار تھا، لیکن خودکار لانچ سیکوئنس شروع ہونے کے بعد ایک تکنیکی خرابی سامنے آئی۔ خرابی دور کیے جانے کے بعد تمام نظاموں کی جانچ کے لیے 20 منٹ کی نئی الٹی گنتی کی گئی، جس کے بعد راکٹ نے کامیابی کے ساتھ پرواز بھری۔
تقریباً 15 منٹ کے سفر، تمام مراحل کی کامیاب علیحدگی (اسٹیج سیپریشن) اور انجنوں کے درست عمل کے بعد راکٹ 450 کلومیٹر کی بلندی پر 60 ڈگری کے زاویۂ جھکاؤ کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں کامیابی سے پہنچ گیا۔ اس کامیابی کے بعد مشن کنٹرول سینٹر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی۔ نارائنن نے سائنس دانوں کو مبارک باد دی۔
اسرو نے اعلان کیاکہ "وکرم-1 مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔"
اس مشن کے علامتی پے لوڈز میں وزیر اعظم نریندر مودی کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پوسٹ کارڈ بھی شامل تھا، جس پر "وندے ماترم" تحریر تھا۔
لانچ سے قبل وزیر اعظم مودی نے وکرم-1 مشن کو بھارت کے خلائی سفر میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ خلائی شعبے میں اصلاحات اختراع اور نجی سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے کہا کہ "وکرم-1 ٹیسٹ فلائٹ-1 کے پے لوڈز میں سب سے منفرد چیز وزیر اعظم نریندر مودی کا ہاتھ سے لکھا ہوا 'وندے ماترم' والا پوسٹ کارڈ ہے۔"
یہ لانچ بھارت کے خلائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، کیونکہ یہ ملک کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ مدار بردار راکٹ ہے جس نے مدار تک پہنچنے کی کوشش کی اور کامیابی حاصل کی۔ اس سے بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے خلائی پروگرام میں نجی شعبے کی شمولیت کو مزید فروغ ملے گا۔
اسرو نے کہا کہ "مشن آگمن محض ایک لانچ نہیں بلکہ بھارت کے نجی خلائی ماحولیاتی نظام کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ وکرم-1 بھارت کے عالمی خلائی طاقت بننے کے سفر میں اگلا فیصلہ کن قدم ہے۔"
وکرم-1 اپنے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر پے لوڈز بھی لے گیا، جن میں 18 قیراط سونے سے بنا ایک ننھا راکٹ شامل تھا، جس میں نوبیل انعام یافتہ سائنس دان سر سی وی رامن، بھارت کے خلائی پروگرام کے معمار ڈاکٹر وکرم ساربھائی اور سابق صدر و ممتاز خلائی و میزائل سائنس دان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے چاول کے دانے سے بھی چھوٹے مائیکرو مجسمے نصب تھے۔
یہ مائیکرو آرٹ پے لوڈ تلنگانہ کے فنکار اجے کمار مٹیواڑا نے تیار کیا، جس میں تقریباً 700 مائیکرون × 980 مائیکرون جسامت کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ راکٹ کا نام بھی ڈاکٹر وکرم ساربھائی کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔
پے لوڈز میں کرناٹک کی کمپنی کاسموس ڈائمنڈز کی تیار کردہ 16.95 قیراط ہیرے سے مزین "کاسمک بلوم" نامی کمل کے پھول کی شکل کا زیور بھی شامل تھا۔
سات منزلہ عمارت کے برابر بلند وکرم-1 ایک کثیر مرحلہ (ملٹی اسٹیج) راکٹ ہے، جس میں مکمل کاربن کمپوزٹ ڈھانچہ، مضبوط سالڈ فیول بوسٹرز اور جدید تھری ڈی پرنٹڈ مائع ایندھن والے انجن استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ راکٹ 350 کلوگرام تک وزنی چھوٹے سیٹلائٹس کو 450 کلومیٹر بلند لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) اور 260 کلوگرام تک کے سیٹلائٹس کو سن سنکرونس مدار میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کا دوسرا خلائی مشن ہے۔ اس سے قبل 18 نومبر 2022 کو کمپنی نے بھارت کے پہلے نجی راکٹ وکرم-ایس کو کامیابی سے خلا میں بھیجا تھا۔ "پرارمبھ" نامی اس مشن میں راکٹ نے 155 سیکنڈ میں تقریباً 89.5 کلومیٹر کی بلندی حاصل کی تھی اور تین پے لوڈز کو لے کر بنگال کی خلیج میں طے شدہ مقام پر بحفاظت گرا تھا۔
اس کامیاب تجربے سے وکرم سیریز کے مدار بردار راکٹوں کے لیے سالڈ پروپلشن، کاربن کمپوزٹ ڈھانچے، ایویانکس اور ٹیلی میٹری سمیت اہم ٹیکنالوجیز کی توثیق ہوئی، جس کی بنیاد پر وکرم-1 تیار کیا گیا۔
اسکائی روٹ کے مطابق مشن آگمن کا بنیادی مقصد وکرم-1 کے تمام اہم نظاموں، بشمول پروپلشن، اسٹیج سیپریشن، رہنمائی، نیویگیشن، کنٹرول اور مجموعی کارکردگی سے متعلق پروازی اعداد و شمار جمع کرنا ہے، تاکہ راکٹ کے ڈیزائن کی توثیق کی جا سکے اور مستقبل میں باقاعدہ تجارتی خلائی لانچ پروگرام کی راہ ہموار ہو سکے۔
