سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے نگرانی کے مراکز، عسکری لاجسٹکس اور زیرِ زمین ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جب کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئیں۔
سینٹ کام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی سختی سے نافذ ہے۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں اور امریکی افواج ہر وقت چوکس اور مؤثر کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو اور مصنوعی ذہانت کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیا گیا۔
قطر میں امریکی العدید ایئر کو بھی نشانہ بنایا گیا، کویت کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے متعدد فوجی مراکز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں زمینی متعدد فوجی زخمی ہوئے۔ کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو سراغ لگانے کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، اردن کا کہنا ہے ایرانی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل مار گرائے گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق پہلی بار شام میں بھی حملہ کیا گیا، اور امریکی فوج کے کمانڈ سینٹر کو ملیا میٹ کر دیا گیا، جب کہ کویت، قطر، اردن اور عمان میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے جنوبی ایرانی شہر اہواز پر میزائل حملہ کیا، جب کہ وسطی ایران کے شہر یزد میں پانچ دھماکے اور شہر سیرک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ادھر ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرِ ہند میں ایک امریکی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد امریکی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق متعلقہ ٹینکر نے آبنائے ہرمز میں ایرانی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی حملے کے دوران بندر خمیر پل عبور کرتے ہوئے 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے شہری بے گناہ تھے اور بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے ایک ایک انچ کا آخری سانس تک دفاع کرے گا اور ایرانی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
