Masarrat
Masarrat Urdu

وانگچک کو حراست میں لیے جانے کے بعد دیپکے نے ملک گیر احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی

Thumb

نئی دہلی، 18 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کو حراست میں لیے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ملک بھر میں لوگوں سے پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔

دیپکے نے کہا کہ وانگچک کو اس انداز میں حراست میں لینا آمریت کی علامت ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا، "دہلی پولیس نے سونم سر (وانگچک) کو جنتر منتر سے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج بھی کیا ہے۔ میں اپنے ایک دوست کے گھر گیا تھا، جہاں مجھے روک لیا گیا اور میرے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔"

انہوں نے کہا، "وانگچک کو لے جانے کے بعد مجھے چھوڑ دیا گیا، لیکن اب بھی جنتر منتر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جو بھی لوگ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں، میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں ملک بھر میں احتجاج کرنا ہوگا۔ سب سے گزارش ہے کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کیے بغیر پُرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ ہمیں یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم آمریت کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔"

اس دوران، سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا کہ ہم صبح دن کی شروعات کرنے سے پہلے اپنے دوست کے گھر جاتے ہیں۔ اسی وقت سونم وانگچک کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جنتر منتر کو بند کر دیا گیا ہے اور اندر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ہمیں بھی ابھی گرفتار کر لیا جائے لیکن ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اب خاموش بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ سڑکوں پر اتر کر پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ آپ مت بھولیے گا کہ 20 بچوں نے خودکشی کی ہے۔ ہم نظام کو بدلنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ 21 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مسٹر وانگچک کو دہلی پولیس نے ہفتہ کی صبح جنتر منتر سے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کر کے کہا کہ انہیں دہلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین سے درخواست کی کہ وہ جنتر منتر کے احتجاجی مقام کو جلد از جلد خالی کر دیں۔ پولیس نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم اور میڈیکل مشورے کے مطابق، مسٹر سونم وانگچک کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت کو دھیان میں رکھتے ہوئے انہیں ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کے دوران مظاہرین نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی، جس میں تھوڑی سی افراتفری ہوئی، تاہم پولیس نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کام کو انجام دیا۔ ہم جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے درخواست کرتے ہیں کہ جلد از جلد احتجاجی مقام کو خالی کر دیں۔

 

 

Ads