جے شنکر نے یہ بات برسلز میں پہلے ہند-بیلجیم اسٹریٹجک ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خارجہ اور ان کے بیلجیم کے ہم منصب میکسیم پریووٹ نے سیاسی، اقتصادی، سرمایہ کاری، صاف توانائی، دفاع، عوامی آمد و رفت اور دواسازی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔
دونوں رہنماؤں نے بندرگاہوں، بحری شعبے، سیمی کنڈکٹرز اور سپلائی چین سے متعلق خطرات کو کم کرنے کے لیے وسیع تعاون کے امکانات پر بھی توجہ مرکوز کی۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا سمیت عالمی حالات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "آج برسلز میں وزیر خارجہ میکسیم پریووٹ کے ساتھ پہلے ہند-بیلجیم اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔ گزشتہ برسوں میں ہماری شراکت داری کافی مضبوط ہوئی ہے۔ آج کی گفتگو میں بیلجیم اور یورپی یونین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی مستقبل کی امنگیں نظر آئیں۔"
انہوں نے کہا، "ہم نے سیاسی، اقتصادی، سرمایہ کاری، صاف توانائی، دفاع، موبلٹی اور دواسازی کے شعبوں میں اپنے تعاون کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ بندرگاہوں، بحری شعبے، سیمی کنڈکٹرز میں مواقع اور سپلائی چین کے خطرات کو کم کرنے کے لیے جامع تعاون پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ مغربی ایشیا سمیت عالمی پیش رفت پر مفید تبادلۂ خیال ہوا۔"
اس سے قبل دن میں وزیر خارجہ نے بین الاقوامی شراکت داری کے لیے یورپی کمشنر ایکاترینا زاہاریوا سے بھی ملاقات کی اور صاف و سبز توانائی کی ٹیکنالوجیز، جدت طرازی، اسٹارٹ اپس اور 'ہورائزن یورپ' پروگرام کے ساتھ تحقیق کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
