کانگریس کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ پارٹی گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت کو معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تئیں خبردار کرتی رہی ہے لیکن حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 44 مہینوں کی سب سے زیادہ 9.87 فیصد تھوک مہنگائی درج کی گئی ہے، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں 27.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس بار کاشتکاری (بوائی) تین سالوں کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے عام لوگ پریشان ہیں، جبکہ کسان حکومت کی غلط پالیسیوں اور ناسازگار موسم کی دوہری مار جھیل رہے ہیں۔ مہنگائی بڑھنے سے صنعتوں کی لاگت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ جب معیشت کے تمام اہم اشاریے 'ریڈ الرٹ' کی حالت میں ہیں، تب حکومت حالات کو سنبھالنے کے بجائے صرف سرخیاں بٹورنے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے اس کے ہولناک اعداد و شمار کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہول سیل مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک مہنگائی پر وزیر اعظم سے جواب مانگ رہا ہے اور حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کی جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔
