انہوں نے بدھ کو کہا کہ امتحان منسوخ ہونے کے دو ہفتے بعد بھی امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، جس سے تقریباً چھ لاکھ امیدوار غیر یقینی کی صورتحال میں ہیں۔ پیپر لیک کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں، جبکہ ایمانداری سے محنت کرنے والے امیدوار اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جنہوں نے برسوں تک تیاری کی، درخواست کی فیس بھری، دور دراز کے امتحانی مراکز تک پہنچے اور اب بغیر کسی واضح معلومات کے صرف انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے تین فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ پہلی، مہاراشٹر ٹیٹ کے امتحان کی نئی تاریخ کا فوراً اعلان کیا جائے۔ دوسری، پیپر لیک کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، نہ کہ امیدواروں کو پریشان کیا جائے۔ تیسری، پیپر لیک کی وجہ سے جن امیدواروں کا ایک سال متاثر ہوا ہے، انہیں عمر کی حد میں رعایت دی جائے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ”غلطی ادارے کی اور سزا امیدوار کو، یہ انصاف نہیں ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ اور مستقبل کے اساتذہ ہندستان کا مستقبل تیار کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ وہ 17 جولائی کو دہرادون میں پیپر لیک کے بڑھتے ہوئے واقعات اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت تعلیمی انقلاب کا ہے، تاکہ نوجوانوں کو نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ اپنی محنت کا مناسب پھل مل سکے۔
