ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کے ثالثوں کے ایران آنے کی تجویز کو قبول کیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے (ایم او یو) کی کسی بھی خلاف ورزی کا مناسب اور اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے سوشل ٹرتھ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، تاہم امریکہ نے ایران کو واضح بتا دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔
ادھر امریکہ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں، امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی سہولت کار علی انصاری، متعدد شیڈو ایکسچینج ہاؤسز اور ان کے ذمہ داران کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔
امریکی حکام کے مطابق علی انصاری، مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک عالمی اثاثہ جاتی نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں اور سرکاری دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ایکسچینج ہاؤسز پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی بینکوں کے اربوں ڈالر منتقل کرتے ہیں۔ ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں قائم دو کمپنیوں کو بھی نئی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
