شیخ علیم الدین اسعدی کی سرپرستی میں سینکڑوں مریضوں کا مفت معائنہ، ادویات کی تقسیم؛ گلزار دہلوی کی اردو خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت
نئی دہلی، 7 جولائی (ممسرت ڈاٹ کام) آل انڈیا یونانی کانگریس، دہلی کے زیرِ اہتمام اور شیخ علیم الدین اسعدی (جنرل سکریٹری، آل انڈیا اردو مساجد بورڈ، نئی دہلی) کی سرپرستی میں پنڈت آنند موہن زرتشی گلزار دہلوی کے صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر 154واں مفت یونانی میڈیکل کیمپ بارات گھر، بارہ دری، بلی ماران، دہلی میں کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر شیخ علیم الدین اسعدی نے پروگرام کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون پیش کیا اور تمام انتظامات کی نگرانی کرتے ہوئے اس عوامی خدمت کے عمل کی قیادت کی۔
تقریب میں مقررین نے پنڈت آنند موہن زرتشی گلزار دہلوی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردو زبان کے عظیم شاعر، ادیب اور دانشور تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان، اس کی تہذیب اور ادبی ورثے کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور اردو زبان کی ترویج کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر ان کی حیات و ادبی خدمات پر مشتمل ایک مختصر کتابچہ بھی شرکاء میں پیش کیا گیا۔
کیمپ میں مردوں، خواتین اور بزرگوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مفت طبی معائنہ، طبی مشورہ اور یونانی ادویات سے استفادہ کیا۔
آل انڈیا یونانی کانگریس کے قومی صدر ڈاکٹر سید احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونانی نظامِ علاج صرف ایک طریقۂ علاج نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مفت طبی کیمپ غریب، کمزور اور ضرورت مند طبقات تک بنیادی طبی سہولیات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آل انڈیا یونانی کانگریس آئندہ بھی عوامی خدمت کے ایسے پروگرام باقاعدگی سے منعقد کرتی رہے گی۔
کیمپ میں سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سی سی آر یو ایم ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر نجم السحر نجی، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی، ڈاکٹر مفتی جاوید انور، ڈاکٹر اعظمی، ڈاکٹر اطہر محمود، اسرار احمد اور حکیم مرتضیٰ دہلوی سمیت ماہر اطباء نے سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کیا، انہیں طبی مشورے دیے اور ضرورت کے مطابق مفت یونانی ادویات فراہم کیں۔
شرکاء نے آل انڈیا یونانی کانگریس اور حضرت شیخ علیم الدین اسعدی کی ان عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے مفت طبی کیمپ مختلف علاقوں میں منعقد کیے جاتے رہیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد مستفید ہو سکیں۔
