مسٹر کھرگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ہندستانی پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت کے دعوے حقیقی اعداد و شمار سے میل نہیں کھاتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عالمی پاسپورٹ رینکنگ کے مطابق ہندستان 2013 میں 74 ویں نمبر سے جون 2026 میں 80 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک اور عالمی پاسپورٹ انڈیکس میں ہندستان 2026 میں 125 ویں مقام پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندستانی پاسپورٹ کی پوزیشن مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے خدمات میں بہتری لانے کے بجائے پاسپورٹ بنوانا مہنگا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، عام پاسپورٹ کی فیس 1,500 سے بڑھا کر 2,500 کر دی گئی ہے، جبکہ تتکال پاسپورٹ فیس 5,000 تک پہنچ گئی ہے۔
کانگریس صدر نے سیاحت کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد اب بھی کووڈ سے پہلے کی سطح تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ ان کے مطابق، 2019 میں 1.093 کروڑ غیر ملکی سیاح ہندستان آئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 99.5 لاکھ رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت اس کمی کو چھپانے کے لیے این آر آئی کی آمد کو غیر ملکی سیاحوں کے اعداد و شمار کے ساتھ جوڑ کر پیش کر رہی ہے؟
انہوں نے ہندستان کی سرکاری ویزا درخواست ویب سائٹ کو بھی پرانی اور پیچیدہ بتاتے ہوئے کہا کہ "اتیتھی دیو بھو" کا جذبہ رکھنے والے ملک میں سیاحوں کے لیے ایسا غیر منظم نظام مناسب نہیں ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ اگر ہندستانی پاسپورٹ کمزور ہوا ہے، سیاحت اب تک پوری طرح نہیں سنبھلی ہے، ویزا خدمات تسلی بخش نہیں ہیں اور شہریوں سے زیادہ فیس وصول کی جا رہی ہے، تو پھر حکومت جس عالمی احترام کا دعویٰ کرتی ہے، وہ آخر کہاں دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندستان کا بین الاقوامی شبیہ متاثر ہو رہی ہے۔
