Masarrat
Masarrat Urdu

حسن آرا ٹرسٹ کے زیر اہتمام دہلی میں 'پیامِ زینب' کاشاندار انعقاد، ممتاز شخصیات کی شرکت

Thumb

نئی دہلی، 5 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) حسن آرا ٹرسٹ کے زیر اہتمام دارالحکومت دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں سالانہ مجلسی و علمی پروگرام 'پیامِ زینبؑ' کا انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ پروقار انداز میں عمل میں آیا، جس میں ملک کی ممتاز علمی، ادبی، سماجی اور بیوروکریٹک شخصیات سمیت زائرین اور عزاداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے معرکہ کربلا کے بعد اسیرانِ اہل بیت کے مصائب اور دین اسلام کی بقا کے لیے بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخی اور انقلابی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

پروگرام کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز اسکالر پروفیسر عباس رضا نیر جلال پوری نے اسیرانِ کربلا کے مصائب اور شہادتِ اِمام حسین علیہ السلام کے بعد بی بی زینبؑ کی لازوال خدمات و قربانیوں کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی بی زینبؑ نے کربلا کے پیغام کو رہتی دنیا تک زندہ رکھ کر آمریت کو ہمیشہ کے لیے شکست دے دی۔

عالمی مرثیہ سینٹر کے چئیرمین ناصر علی نے اپنا تفصیلی تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے یزیدی درباروں میں بی بی زینبؑ کے خطبات کی فصاحت و بلاغت اور ان کے دور رس انقلابی اثرات پر مدلل تبادلہ خیال کیا۔ ناصر علی نے اپنے مقالے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوفہ اور شام کے درباروں میں بی بی زینبؑ کے خطبات محض ایک مظلومہ کا احتجاج نہیں بلکہ وہ ظلم و استبداد کے خلاف ایک ابدی منشور تھے۔

انہوں نے دلائل میں ثابت کیا کہ بی بی زینبؑ نے کوفہ کے بازار اور دمشق کے قصرِ شاہی میں اپنے خطبے کے ذریعے بنو امیہ کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، جس سے یزیدی حکومت کا پُر فریب بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا اور عوام کو کربلا کی حقیقی سچائی کا علم ہوا۔ ان خطبات کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بی بی زینبؑ کے کلمات ہی کی طاقت تھی جس نے ملوکیت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا اور شام و کوفہ میں حکومت کے خلاف بیداری کی پہلی لہر پیدا کی، جو بعد میں ظلم اور ظالم کے زوال کا سبب بنی۔

معروف سماجی شخصیت محترمہ کامنہ پرساد نے کربلا کی خواتین کے بے مثال کردار اور معرکہ حق و باطل میں ان کی پامردی پر روشنی ڈالی، جبکہ سینئر آئی اے ایس افسر شری کانت نام دیو نے بھی درسِ کربلا اور اس کے آفاقی انسانی پیغام کو سراہتے ہوئے بارگاہِ حسینی میں اپنی گہری عقیدت کا اظہار کیا۔ اس علمی و عزائی نشست میں مولانا کرار مولائی اور صاحب عالم نے سوز و نوحہ پیش کر کے رقت آمیز ماحول پیدا کر دیاأ

نظامت کے فرائض معروف ادبی شخصیت پروفیسر ناشر نقوی نے اپنے مخصوص اور پروقار انداز میں انجام دیے۔ اس سے قبل پروگرام کا آغاز خواتین کے ایک خصوصی سیشن سے ہوا، جس میں رباب حیدر نے نذرانۂ عقیدت (سلام) پیش کیا، جب کہ محترمہ ہدا اور عالمگیر شہرت کی حامل ذاکرہ آلِ عبا محترمہ آل تہہ نے شہادتِ اِمام حسینؑ کے رقت انگیز لمحات اور اس وقت بی بی زینبؑ اور اِمام حسینؑ کے مابین ہونے والی گفتگو کا پُردرد بیان پیش کیا، جس سے حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔

پروگرام کے آغاز میں پدم شری ڈاکٹر محسن ولی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور 'پیامِ زینب' کے 35 سالہ شاندار اور تاریخی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروگرام کے اختتام پر حسن آرا ٹرسٹ کے اراکین حیدر کمال اور اشجع رضا زیدی نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس باوقار تقریب میں ملک کی کئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی، جن میں قمر احمد زیدی، سابق چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی، آئی آر ایس نیئر علی نجمی، آئی جی جمال تہہ، معروف فلم ہدایتکار مظفر علی، ندیم عباس زیدی، نواب مراد علی خان، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سعید نقوی،جمشید زیدی، بیگم فرخ نازسمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، صحافیوں اور سوگواران کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

 

Ads