صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ پنڈوانی گلوکارہ تیجن بائی کا انتقال انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے اپنی توانا آواز، مؤثر اسٹیج موجودگی اور منفرد اندازِ پیشکش سے مہابھارت کی داستانوں کو اسٹیج پر زندہ کر دیا۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت، لگن اور برسوں کی ریاضت کے ذریعے انہوں نے چھتیس گڑھ کی بھرپور پنڈوانی روایت کو ملک اور بیرونِ ملک نئی شناخت دلائی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے تیجن بائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہندوستانی فن و ثقافت کے لیے "ناقابلِ تلافی نقصان" قرار دیا۔ انہوں نے چھتیس گڑھ کی اس لوک روایت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں ان کی خدمات کو بھی یاد کیا۔
مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا، "معروف پنڈوانی گلوکارہ تیجن بائی جی کے انتقال سے انتہائی دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی شاندار پیشکشوں کے ذریعے چھتیس گڑھ کی اس لوک روایت کو دنیا بھر میں منفرد شناخت دلائی۔ ان کا انتقال فن اور ثقافت کی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "غم کی اس گھڑی میں میری تعزیت ان کے اہل خانہ اور مداحوں کے ساتھ ہے۔ اوم شانتی!" محترمہ تیجن بائی کو ملک کی عظیم لوک فنکاراؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مہابھارت کی کہانیوں پر مبنی روایتی پنڈوانی گائیکی کو ملک اور بیرونِ ملک مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی مؤثر پیشکش، طاقتور داستان گوئی اور اسٹیج پر منفرد انداز کے باعث انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔
