تہران، 2 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ قانون کے مطابق بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک کسی بھی معائنہ کار کو رسائی نہیں دی جائے گی، جبکہ ایران صرف قومی سلامتی کونسل کی مقررہ حدود کے اندر ہی تعاون جاری رکھے گا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی سے متعلق خبریں سراسر بے بنیاد ہیں اور ایرانی قانون کے تحت ایسی کسی رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ زیورخ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے عمل میں تیزی آئی اور بعض پابندیوں کی معطلی ممکن ہوئی۔ اگر ایران مذاکرات میں شریک نہ ہوتا تو یہی سوال اٹھایا جاتا کہ مذاکراتی شرائط پر عمل درآمد کیوں نہ کرایا گیا۔
قالیباف نے کہا کہ رہبر انقلاب نے اپنے پیغام میں واضح کیا تھا کہ وہ اور ایرانی عوام طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے منتظر ہیں، اس لیے مذاکراتی ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ ان شرائط کا پوری سنجیدگی سے تعاقب کرے۔ بعض عناصر نہ سفارت کاری میں ملک کی مدد کرتے ہیں اور نہ ہی جنگ کے میدان میں، جبکہ وہ خود قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں محاذوں پر اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جائے اور امریکی صدر کے بیانات کو دہرانے کے بجائے عوام کے اطمینان اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اس لیے ایران کو اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مضبوط موقف برقرار رکھنا ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ قانون سازی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے فیصلے کے مطابق بمباری سے متاثرہ جوہری مقامات تک کسی بھی معائنہ کار کو رسائی نہیں دی جائے گی۔ ایران کونسل کی جانب سے مقررہ دائرۂ کار سے بڑھ کر کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ صورتحال میں صرف تہران اور بوشہر ایٹمی پلانٹ تک محدود رسائی کی اجازت ہے اور ایران اسی حد تک اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔
قالیباف نے کہا کہ وہ ایران کے تمام شہریوں، خواہ ان کا مذہب یا سیاسی رجحان کچھ بھی ہو، کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح معاشی مسائل کا حل، قومی سلامتی کا تحفظ اور رہبر انقلاب کی قیادت میں قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔
