قطری وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد عبدالرحمٰن الثانی نے امریکی نمائندوں اسٹیوٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں فروغِ استحکام کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران "اسلام آباد یاداشتِ مفاہمت"کے تحت امریکہ۔ایران مذاکرات میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور بذریعہ گفت و شنید علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فریقین نے خطے کی مجموعی صورتحال، بالخصوص لبنان میں جنگ بندی کے عمل پر بھی غور کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لبنان کے اتحاد، خودمختاری اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ بندی کا تحفظ کیا جائے اور اس کی بنیاد پر مزید عملی اقدامات کئے جائیں۔
گزشتہ جمعہ بیروت اور تل ابیب نے امریکہ کی سرپرستی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیل کے مرحلہ وار انخلا کو آسان بنانا اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور جھڑپوں کو کم کرنا ہے۔ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اس موقع پر قطر کے، ثالثانہ کوششیں اور مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے تمام مذاکراتی عمل کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ قطر ایک ایسے جامع اور پائیدار حل کے حصول کا خواہاں ہے جو خطے کے امن و سلامتی کو مضبوط بنائے، علاقائی عوام کے مفادات کا تحفظ کرے اور عالمی امن و استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرے۔ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے قطر اور پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دوحہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی عمل کو جاری رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کے نمائندوں کا یہ دورۂ دوحہ ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار بدھ کے روز دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کریں گے، جہاں امریکہ۔ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اورمنجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی سمیت دیگر امور پر گفتگو ہوگی۔ تاہم انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت 18 جون کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹرانک دستخط وں کے بعد نافذ العمل ہوگئی تھی۔ یہ معاہدہ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے خاتمے، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، جوہری پروگرام سے متعلق تنازعے کے حل، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان دیگر اہم اختلافات کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی اس میں خطے کے لیے وسیع تر سلامتی کے انتظامات کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔
