کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارلیمنٹ کی دیہی ترقی اور پنچایتی راج سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سپتگیری اولاکا نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ آج کا دن ملک کے لیے انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ مودی حکومت نے منریگا جیسی مانگ پر مبنی روزگار اسکیم کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منریگا ہی ملک کے دیہی عوام کو روزگار فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اس لیے حکومت کو اسے فوری طور پر بحال کر کے وی بی جی رام جی اسکیم واپس لینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منریگا میں روزگار کی مانگ کے مطابق مرکزی حکومت فنڈز فراہم کرتی تھی، جبکہ نئی اسکیم میں پہلے سے طے شدہ بجٹ کے اندر ہی کام کرنا ہوگا۔ اس سے ریاستوں پر اضافی مالی اور انتظامی بوجھ پڑے گا اور ضرورت مندوں کو روزگار حاصل کرنے میں دشواری ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ منریگا میں مزدوری کی لاگت کا تقریباً پورا خرچ مرکزی حکومت برداشت کرتی تھی، نئی اسکیم میں لیبر اور مٹیریل (مواد) کی لاگت کا تناسب 60:40 کر دیا گیا ہے جس سے اضافی روزگار فراہم کرنے کی ذمہ داری اور خرچ ریاستوں پر آ جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر ملک کو قرض کے بوجھ تلے دھکیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریزرو بینک کے مطابق مارچ 2026 تک ہندوستان کا غیر ملکی قرض بڑھ کر 762.8 ارب ڈالر ہو گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 26.3 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور اقتصادی تنگی بڑھ رہی ہے، روپیہ کمزور ہو رہا ہے اور معیشت ڈانواڈول ہے، لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے روزگار کی گارنٹی دینے والی اسکیم کو ختم کر رہی ہے۔ مسٹر اولاکا نے کہا کہ مرکزی حکومت وی بی جی رام جی اسکیم کے تحت 125 دن کا روزگار دینے کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن حقیقی مالی دفعات اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتیں۔
انہوں نے ہریانہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لیے 984 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں 40 فیصد یعنی 393 کروڑ روپے ریاستی حکومت کو برداشت کرنے ہوں گے۔ اس رقم سے صرف 13.78 ورکنگ ڈیز (کام کے دن) کا ہی روزگار فراہم ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی 125 دن کا روزگار دینا ہے تو ہریانہ کو تقریباً 5,786 کروڑ روپے اضافی خرچ کرنے پڑیں گے۔ ان کا الزام تھا کہ مرکزی حکومت کا 125 دن روزگار دینے کا دعویٰ محض جملہ ثابت ہوگا کیونکہ اس کے مطابق مناسب مالی دفعات نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے وی بی جی رام جی اسکیم کے لیے 16 ویں مالیاتی کمیشن کے ہوریزونٹل ڈیولوشن فارمولے کی بنیاد پر ریاستوں کو معیاری مالانہ الاٹمنٹ دینے کی بات کہی ہے، لیکن یہ نظام کئی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی ثابت ہوگا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ اسکیم منریگا کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور کرنے کے مقصد سے لائی گئی ہے اور دیہی روزگار کے بنیادی جذبے کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم میں ریاستوں کو زراعت کے مصروف موسم کے دوران دو ماہ تک کام نہ دینے کی چھوٹ دی گئی ہے، جبکہ منریگا کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ دیہی مزدوروں کو ان کے اپنے گاؤں میں ہی روزگار مل جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے منریگا کی مزدوری بڑھانے کی سفارش کی ہے، لیکن حکومت نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ ساتھ ہی منریگا میں گرام سبھائیں مقامی ضروریات کے مطابق کاموں کا انتخاب کرتی تھیں، جبکہ نئی اسکیم میں یہ نظام ختم کر دیا گیا ہے۔
