تہران، یکم جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ معاہدے کی ضمانت اقوام متحدہ نہیں بلکہ ایران کی عسکری طاقت اور میزائل صلاحیت ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی اصل ضمانت اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عسکری طاقت، دفاعی صلاحیت اور میزائل قوت ہے، اور اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل نہ کرے تو ایران ہر قسم کے ردعمل اور جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں طے پانے والا مفاہمتی معاہدہ ڈیجیٹل طور پر حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور پاکستان و قطر اس کے ضامن نہیں بلکہ سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران معاہدے کے آرٹیکل 13 پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات کے بجائے صرف عملی اقدامات کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ جغرافیائی اعتبار سے پورے ایران پر محیط تھی، جس میں ملک کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک زمینی، فضائی، بحری اور داخلی سلامتی کے محاذوں پر مکمل جنگ لڑی گئی، جبکہ لبنان، عراق اور یمن سمیت مزاحمتی محاذ بھی اس تنازع کا حصہ تھے۔
قالیباف نے کہا کہ جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کے دوران بعض مشکلات اور کشیدگیاں فطری امر ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے۔ معاہدے کی پہلی شق میں امریکہ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ لبنان میں جنگ ختم ہوگی، تمام فوجی کارروائیاں رکیں گی، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور لبنان کی خودمختاری بحال ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر آبنائے ہرمز میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو معاہدے کی شقوں کے منافی ہیں، تاہم ایران اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گا اور اگر کسی بھی جانب سے خلاف ورزی ہوئی تو ایران مناسب ردعمل دے گا۔
ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ ایران اس وقت معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بات چیت کر رہا ہے، لیکن اگر دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو ایران جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے اور ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی صورتحال دیگر معاملات سے مختلف ہے کیونکہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قابض ہے، تاہم معاہدے کے بعد فوجی جھڑپوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
قالیباف کے مطابق ایران سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر معاہدے کی پانچ بنیادی شقوں پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے تاکہ طے شدہ مدت کے اندر تمام وعدے مکمل کیے جاسکیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کی دفاعی طاقت، میدان میں اس کی برتری اور میزائل صلاحیت کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں اور یہی طاقت معاہدے کے نفاذ کی حقیقی ضمانت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیورخ میں امریکہ، پاکستان اور قطر کی موجودگی میں ہونے والے چار فریقی اجلاس میں صرف معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر گفتگو ہوئی، کیونکہ اصل مذاکرات معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی مکمل ہو چکے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اسرائیل نے معاہدے پر دستخط کے فوری بعد اس کو سبوتاژ کرنے کے لیے حملے تیز کیے، کیونکہ یہ مفاہمت دراصل امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی کی دستاویز ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے سوئٹزرلینڈ جا کر معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے فوری مشاورت کی۔
