لبنان کی وزارتِ صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2 مارچ سے 30 جون 2026 تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 278 ہو گئی ہے، جبکہ 12 ہزار 196 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں اس وقت تیز کیں جب حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کیے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔
اسرائیلی فوج نے اسرائیل-لبنان سرحد کے ساتھ لبنانی حدود کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ایک بفر زون قائم کر رکھا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ شمالی اسرائیل کی آبادی کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے متعدد دیہاتوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مقامی آبادی کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، جبکہ چھاپوں کے دوران متعدد عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے زیرِ استعمال سرنگوں اور دیگر عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ 2026 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث لبنان میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں اب تک کم از کم 32 اسرائیلی فوجی اور چار شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی لبنان میں ہوئیں۔
امریکہ کی ثالثی میں 19 جون کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود دونوں جانب سے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات پر بارہا اعتراض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے۔
