شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ اہتمام سے منعقد ہونے والے اس سیمینار کا مقصد امام شاہ ولی اللہ کی علمی و فکری میراث کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور اسے اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت ان کے مکتوبات کےسلسلۂ اشاعت کی دسویں جلد کی رونمائی تھی، جس کے ذریعے شرکاء کو ان کی تعلیمات اور علومِ اسلامیہ کے میدان میں ان کی دائمی خدمات سے آگاہ کیا گیا ۔
اس موقع پر ملک کے مختلف علاقوں سے ممتاز علماء، دانشوروں اور اہلِ فکر کی ایک متنوع جماعت نے شرکت کی اور شاہ ولی اللہ کے پیغام، تصانیف اور تعلیمات کی عصرِ حاضر میں معنویت پر گہرے علمی مباحثے میں شرکت کی ۔
سینئر صحافی سہیل انجم نے شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کا تعارف کرایا اور شاہ ولی اللہ کے مکتوبات کی دسویں جلد کا اجمالی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے اس اشاعتی منصوبے، جاری علمی مباحث اور شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے سابقہ اور آئندہ پروگراموں پر روشنی ڈالی۔ سہیل انجم نے مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ کی علمی میراث کی تحقیق اور اشاعت کے سلسلے میں ان کی غیر متزلزل خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ مفتی صاحب نے چودہ برس تک دہلی کے مہدیان علاقے میں واقع حضرت شاہ ولی اللہ کے مزار کے قریب قائم درگاہ شاہ ولی اللہ مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں انہیں حضرت شاہ ولی اللہ سے گہرا روحانی اور علمی تعلق قائم کرنے کا موقع ملا، جس کے نتیجے میں انہوں نے علومِ قرآن اور دیگر میدانوں میں شاہ ولی اللہ کی خدمات کا عمیق مطالعہ کیا۔ اسی تعلق سے متاثر ہو کر انہوں نے شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا تاکہ حضرت شاہ ولی اللہ کی گراں قدر علمی میراث عام لوگوں تک پہنچائی جا سکے۔ ان کی متعدد تصانیف یا تو بہت پہلے شائع ہو چکی تھیں یا اب تک مختلف کتب خانوں میں مخطوطات کی صورت میں محفوظ تھیں۔ اس منصوبے کے تحت مفتی صاحب اب تک شاہ ولی اللہ کی تصانیف کی دس جلدیں شائع کر چکے ہیں، جن کی دسویں جلد کی رونمائی اس تقریب میں عمل میں آئی۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا: ’’میرے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دیا جانے والا یہ اعزاز قبول کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں مجھے اس اعزاز کو قبول کرنے میں تامل اور کئی مرتبہ اس سے معذرت بھی کی، لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر آخرکار مفتی صاحب کے مسلسل اصرار کے سامنے مجھے جھکنا پڑا۔ ان میں سب سے اہم وجہ مفتی صاحب سے میری تقریباً چالیس سالہ رفاقت ہے، جو 1984ء میں میرے بیرونِ ملک سے واپس آنے کے بعد سے شروع ہوئی۔ اس وقت میں مہدیان گیا تھا جہاں میری حضرت شاہ ولی اللہ سے روحانی وابستگی پیدا ہوئی اور مفتی صاحب سے بھی تعلق قائم ہوا، جو اس وقت وہاں مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ اعزاز حضرت شاہ ولی اللہ سے منسوب ہے جو ہندوستان کی پیدا کردہ عظیم ترین اسلامی شخصیت ہیں بلکہ انہیں تمام ادوار کے عظیم ترین غیر عرب اسلامی علماء میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے عرصہ قبل عربی زبان میں حضرت شاہ ولی اللہ پر ایک مختصر کتاب تحریر کی تھی جس کا مقصد لوگوں کی توجہ اس بحرِ بے کراں علم کی طرف مبذول کرانا تھا، جو حضرت شاہ ولی اللہ تھے اور آج بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ کی شہرۂ آفاق تصنیف حجۃ اللہ البالغہ اسلامی ادب کا ایک بے مثال شاہکار ہے، جو آج بھی عالمِ عرب میں مسلسل شائع، ازسرِ نو طبع اور زیرِ مطالعہ ہے۔ ڈاکٹر خان نے اس کتاب کو علومِ اسلامیہ کی گہری، متوازن اور جامع تفہیم کا ایک بیش بہا خزانہ قرار دیا۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مفتی صاحب کی انتھک کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے انہوں نے شاہ ولی اللہ کے متعدد گم نام اور فراموش شدہ مخطوطات اور متون کو تلاش کر کے شائع کیا۔ ان کے بقول موجودہ دسویں جلد اسی علمی محنت کا زندہ ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی صاحب اور حضرت شاہ ولی اللہ سے ان کے ذاتی اور علمی تعلقات ہی وہ محرک تھے جنہوں نے انہیں یہ اعزاز قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اعزاز کو قبول کرنے کی ایک تیسری وجہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ یہ اعزاز ان کے انگریزی ترجمۂ قرآنِ مجید کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے مستند ترین عربی مصادر کی بنیاد پر قرآنِ کریم کا ایک صحیح اور معتبر ترجمہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ ہمارے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کو سمجھیں، انہیں عام کریں اور جدید زبان و اسلوب میں پیش کریں۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ کا قرآنِ مجید کا فارسی ترجمہ اپنے زمانے میں ایک نہایت جرأت مندانہ اقدام تھا، جسے اس دور کے بہت سے علماء نے کفر و ارتداد سے تعبیر کیا۔ آج بھی بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر یہ بات درست ہوتی تو عالمِ عرب سے باہر رہنے والے تقریباً پچاسی فیصد مسلمان اللہ تعالیٰ کا پیغام کیسے سمجھتے؟ اس لیے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کا ہر زبان میں ترجمہ کیا جائے، خواہ وہ آسامی ہو، برمی ہو، چینی ہو یا کوئی اور زبان، تاکہ عام مسلمان اور غیر مسلم دونوں اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی مستشرقین نے اپنی علمی استعداد کے باوجود اکثر اپنے تراجم میں قرآن کے مفاہیم کو مسخ کر کے پیش کیا ہے ، لہٰذا مسلم علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنِ مجید کا درست، مستند اور دیانت دارانہ ترجمہ پیش کریں۔ ڈاکٹر خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ترجمۂ قرآن کی تکمیل میں گیارہ برس صرف کیے ، خصوصاً کووڈ-19 کی وبا کے دوران تین برس مکمل طور پر صرف اسی کام کے لیے وقف کیے۔ انہوں نے اس اعزاز کو اپنے لیے اور تمام اہلِ علم کے لیے مزید علمی خدمات انجام دینے کا ایک محرک قرار دیا۔
شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مفتی عطاء الرحمٰن نے اپنے خطاب میں شاہ ولی اللہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کے تصور اور اس کے قیام سے اب تک کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شاہ ولی اللہ ایوارڈ کے سابقہ وصول کنندگان کا بھی ذکر کیا۔ پہلا ایوارڈ 2007ء میں ناگپور کے مولانا عبد الکریم پاریکھ کو دیا گیا؛ دوسرا اور تیسرا ایوارڈ 2010ء میں مولانا اخلاق حسین قاسمی اور مولانا فقیہ الدین کو؛ چوتھا ایوارڈ 2013ء میں مولانا محمد سالم قاسمی کو؛ جبکہ پانچواں ایوارڈ 2014ء میں مولانا قمر الزمان الہ آبادی کو عطا کیا گیا۔
اس تقریب میں سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب، جامعہ ہمدرد کے سابق وائس چانسلر سراج حسین، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری، پروفیسر خالد محمود، خواجہ محمد شاہد اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انہوں نے مفتی عطاء الرحمٰن کی مثالی علمی خدمات کو سراہا اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو اس باوقار اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کی۔
