Masarrat
Masarrat Urdu

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار

Thumb

نئی دہلی، 29 جون (مسرت ڈاٹ کام) انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی۔ ایم۔ سی۔ آر) نے برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، بے باک خطیب، دانشور، مصنف اور ملت اسلامیہ ہند کی مؤثر آواز حضرت مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ ہند اور عالم اسلام کے لیے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی سانحہ قرار دیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ مولانا سلمان حسنی ندوی علم و فضل، دعوت و اصلاح، فکری بیداری، ملی شعور اور امت کے اتحاد کی ایک درخشاں علامت تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، دینی تعلیم کے فروغ، ملت کی رہنمائی، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کی رحلت سے ایسا علمی و فکری خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا "مولانا سلمان حسنی ندوی کی رحلت نے مجھے ذاتی طور پر بھی انتہائی صدمہ پہنچایا ہے۔ وہ مجھ سے تقریباً دس برس چھوٹے تھے۔ جب وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں زیر تعلیم تھے اور میں ندوہ جایا کرتا تھا۔۔ ان کے خاندان سے میرا ذاتی تعلق تھا۔ ان کی غیر معمولی ذہانت، مطالعے کی وسعت، شائستہ گفتگو اور غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ یہ نوجوان مستقبل میں ملت کا روشن چراغ ثابت ہوگا اور وقت نے یہی ثابت کیا۔ وہ ایک بے مثال مقرر، نڈر داعی، بلند پایہ عالم اور گہری بصیرت رکھنے والے مفکر تھے جنہوں نے اپنی علمی و فکری خدمات سے دنیا بھر میں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کی۔"

محمد ادیب نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسنی ندوی نے نہ صرف دینی علوم کی تدریس اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ ملت اسلامیہ کو درپیش عصری، سماجی اور فکری چیلنجز پر ہمیشہ واضح، جرات مندانہ اور مدلل موقف اختیار کیا۔ وہ امت کے اتحاد، باہمی اخوت، بین الاقوامی اسلامی تعاون اور نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے زبردست داعی تھے۔ ان کی تقاریر، تصنیفات اور علمی مجالس نے لاکھوں افراد کی فکری رہنمائی کی اور انہیں دین سے وابستگی کا شعور عطا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کی پوری زندگی اخلاص، علم، دعوت، اصلاح، جرأتِ اظہار اور امت کی خیرخواہی سے عبارت تھی۔ وہ برصغیر کی اس علمی روایت کے امین تھے جس نے ہمیشہ اعتدال، حکمت، بصیرت اور وحدتِ امت کا پیغام دیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلیں ان کے علمی و فکری سرمایہ سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔

 

Ads