دوحہ، 29 جون (مسرت ڈاٹ کام) واشنگٹن کے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے باہمی حملے روکنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ ''ایکسیوس'' نے اپنی رپورٹ میں نقل کی ہے۔
عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان منگل کے روز قطر میں ایک اجلاس متوقع ہے۔دوسری جانب ایک اور امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ اور ایران عارضی طور پر ایک دوسرے پر حملے بند کر دیں گے اور تجارتی و دیگر بحری جہازوں کو آزادانہ طور پر آمدورفت کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی تمام شقوں پر تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے، جبکہ دونوں جانب سے عارضی طور پر حملے معطل رکھے جائیں گے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔
دریں اثنا العربیہ/الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات کو دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دوحہ میں ہونے والے ان مذاکرات میں دیگر معاملات کے بجائے بنیادی توجہ آبنائے ہرمز اور حالیہ کشیدگی پر مرکوز رہے گی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس اجلاس میں امریکی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔
