مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اقتدار کے تکبر میں ڈوبی مودی حکومت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اپنے حقوق، منصفانہ امتحانات اور محفوظ مستقبل کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کو اس کے وزیر تعلیم 'دہشت گرد' بتا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کی ناکامی سے کئی پیپر لیک ہوئے، جن کے دورِ اقتدار میں طلبہ کو سنگین پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا، وہ آج متاثرہ طلبہ اور ان کی آواز اٹھانے والوں کو 'دہشت گرد' بتا رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ حکومت کا یہ رجحان پرانا ہے۔ کسانوں کو 'آندولن جیوی' اور 'پرجیوی' کہا گیا، سوال پوچھنے والوں کو 'اینٹی نیشنل' بتایا گیا اور اب نوجوانوں کو 'دہشت گرد' کہا جا رہا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ جو بھی حکومت سے سوال پوچھتا ہے، اسے ملک دشمن قرار دینے کی سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم نے یہ سنگین جرم کیا ہے اور اس کے لیے انہیں ملک کے کروڑوں نوجوانوں سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسٹر پردھان کو اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ان پر حکومت کی طرف سے یا وزیر کی طرف سے چاہے جتنے حملے کیے جائیں، لیکن وہ طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات کی آواز اٹھانا بند نہیں کریں گے۔ مسٹر گاندھی نے کہا، "میں نے کوٹا میں بھی کہا تھا اور آج پھر دہرا رہا ہوں کہ موجودہ تعلیمی نظام ایک 'وصولی تنتر' (وصولی کا نظام) بن گیا ہے۔ ہر بچے کو سستی اور معیاری تعلیم اور منصفانہ امتحانی نظام ملنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے۔"
