ریاض، 25 جون (مسرت ڈاٹ کام) سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں متوقع اجلاس کا مقصد ایران، خلیج فارس کے ممالک اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا اور اعتماد کی فضا بحال کرنا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک سفارتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر ایک اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد ایران اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا اور علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
عربی خبر رساں ویب سائٹ عربی 21 کے مطابق متوقع اجلاس ریاض میں منعقد ہوسکتا ہے، جہاں ایران، خلیج فارس کے ممالک اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان تعلقات کی بحالی اور باہمی اعتماد کے فروغ پر گفتگو کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کے ردعمل کے باعث تہران اور بعض ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ ایران نے امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ایران اس سے قبل خبردار کر چکا تھا کہ اگر امریکہ ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرے تو تہران اپنے دفاع کے قانونی حق کے تحت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم ایران نے اپنے ردعمل میں اس بات پر زور دیا کہ خلیج فارس کے ممالک کے اقتصادی مفادات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچے اور صرف امریکی فوجی اڈوں اور ان سے وابستہ مراکز کو نشانہ بنایا جائے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ریاض میں متوقع مذاکرات خطے میں اعتماد سازی، کشیدگی کے خاتمے اور ایک نئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے ہیں۔
