تہران، 25 جون (،سرت ڈاٹ کام) ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا، اس لیے اسلامی ممالک کو نیا علاقائی نظام تشکیل دینا چاہیے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان کورتولموش نے بدھ کی صبح اسلامی ممالک کی پارلیمانی یونین (پی یو آئی سی) کے بیسویں اجلاس کے موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات اور گفتگو کی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت اور ایران کی حمایت پر ترکی کے موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے دوران بمباری کا حجم ناقابل تصور تھا اور بعض بڑی جدید جنگوں سے بھی زیادہ تھا، جبکہ ایران نے بھی سخت اور درست جوابی کارروائیاں کیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی جارحیت شروع ہوتے ہی ایرانی عوام میدان میں آگئے اور تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ڈٹ گئے، اسی لیے 110 روز سے زائد عرصے سے شہروں اور دیہاتوں میں عوام کی بھرپور موجودگی برقرار ہے۔
قالیباف نے 12 روزہ جنگ اور جنگ رمضان کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی حقیقت یہ سامنے آئی کہ خطے کی تمام بدحالیوں کی جڑ اسرائیل ہے، جبکہ دوسری حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی خیالی طاقت اور رعب اس جنگ میں بکھر کر رہ گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مغربی ایشیا اور اسلامی ممالک کو اپنی صلاحیتوں، وسائل اور عوام پر انحصار کرتے ہوئے ایک نیا علاقائی نظام قائم کرنا چاہیے۔
انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف اقدامات میں ترکی کے تعاون کو سراہا اور پارلیمانی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان کورتولموش نے کہا کہ ان کا ملک دیگر ثالث ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں شریک رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ بین الاقوامی قانون کے نقطۂ نظر سے کسی بھی طرح جائز نہیں تھی۔
کورتولموش نے ایرانی شہریوں، خصوصاً رہبر انقلاب اور میناب میں شجرۂ طیبہ اسکول کے 168 معصوم بچوں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران ترکی کو اپنے غم میں شریک سمجھے۔
