زیورخ، 21 جون (مسرت ڈاٹ کام) سوئٹزرلینڈ میں ایرانی اور امریکی وفود جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر ابتدائی ہنگامی اجلاس میں غور کریں گے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں لبنان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ایجنڈے کا پہلا اور اہم ترین موضوع قرار دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ مذاکرات کے آغاز میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوگا، جو جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں اور وہاں جنگ بندی کے امکانات کے لیے وقف ہوگا۔
سی این این نے ایک باخبر سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان سب سے پہلے لبنان کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل کہا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کی جانب پیش رفت ان مذاکرات کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
ایک ایرانی عہدیدار نے بھی امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ لبنانی تنازع کا خاتمہ ایرانی وفد کے ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔
یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد ہو رہے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے آئندہ ساٹھ روز کے اندر علاقائی مسائل پر حتمی اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت اور آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مذاکراتی عمل کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد میں محمدباقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک و تیل کے شعبے کے اعلی حکام شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور قطری ثالث بھی ان نشستوں میں شرکت کر رہے ہیں۔
