حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں غزہ اور لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہوگا اور یہ معاہدہ علاقائی مسائل کے حل میں مثبت اثرات کا حامل ثابت ہوگا۔ حماس کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ اس ڈیل کے بعد لبنان اور دیگر محاذوں پر جاری حملے بھی رک جائیں گے۔
اپنے بیان میں حماس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب تک فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کی مہم، ان پر بھوک مسلط کرنے اور جبری بے دخلی کی جنگ جاری رہے گی، تب تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس سے قبل لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے بھی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا تھا۔
بیروت سے خبر رساں ایجنسی کے مطابق حزب اللّٰہ نے کہا کہ معاہدے کے اعلان سے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی عمل میں آئی، حزب اللّٰہ نے معاہدے کے اعلان کے بعد سے کوئی آپریشن نہیں کیا۔
حزب اللّٰہ کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی پر ہمارا مؤقف اسرائیل کی جنگ بندی کی پاسداری پر منحصر ہے، لبنان میں اسرائیل کی آزادانہ نقل و حرکت کو مسترد کرتے ہیں۔ حزب اللّٰہ کے مطابق ایران نے اسرائیل کی پاسداری جانچنے کے لیے معاہدے پر دستخط میں تاخیر کی۔
