کانگریس کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ محترمہ سپریا شرینیت نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم کو اس معاملے میں سخت احتجاج درج کرانے کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔
محترمہ شرینیت نے حملے میں ہلاک ہونے والے ہماچل پردیش کے آدتیہ شرما، اتر پردیش کے شیوانند چورسیا اور آندھرا پردیش کے پٹنالا سریش کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاحوں کے خاندان گہرے صدمے میں ہیں اور پورے ملک میں سوگ کا ماحول ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 11 جون کو عمان کی خلیج میں ایم ٹی سیٹیبیلو جہاز پر ہونے والے حملے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی موت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر حملہ کرتے وقت یہ معلومات تھیں کہ اس میں ہندوستانی شہری سوار ہیں، اس کے باوجود حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ہندوستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جس سے پورا ملک غمگین ہے۔
محترمہ شرینیت نے کہا کہ اتنے بڑے واقعے کے باوجود وزیر اعظم مودی نے نہ تو تعزیت کا اظہار کیا اور نہ ہی عوامی طور پر کوئی ردعمل دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان کی جانب سے اعتراض اٹھائے جانے کے باوجود وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان میں ہندوستانی شہریوں کی موت کو درست ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی المیہ اور قومی سوگ کا معاملہ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت ہند نے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو کافی مضبوطی سے نہیں اٹھایا۔
کانگریس کی ترجمان نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوتی ہے تو انہیں یہ مسئلہ ان کے سامنے نمایاں طور پر اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملے پر نرم موقف کیوں اپنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارے گئے لوگ چھوٹے شہروں کے عام خاندانوں سے تھے، لیکن ان کی موت پر بھی وزیر اعظم کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور وقار کے معاملے پر واضح اور پختہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔
