Masarrat
Masarrat Urdu

اسرائیلی محاصرہ فلسطینی نظامِ صحت کو تباہی کے دہانے پر لے آیا، ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

Thumb

رام اللہ، 11 جون (مسرت ڈاٹ کام) فلسطینی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عائد مالی پابندیوں اور محصولات کی مسلسل روک تھام کے باعث فلسطینی نظامِ صحت ایک سنگین اور غیر معمولی انسانی بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور صحت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

یہ اطلاع پریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں دی گئی۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے 4 جون کو جاری ایک ہنگامی بیان میں بتایا کہ ضروری ادویات اور طبی سامان کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق 520 بنیادی ادویات میں سے 180 مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں، جبکہ کینسر کے علاج کے لیے مختص 97 ادویات میں سے 50 کی عدم دستیابی کے باعث 4 ہزار سے زائد کینسر مریضوں کی جانوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔

وزارت نے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں، خصوصاً ڈائیلاسز کرانے والوں کے لیے بھی شدید مشکلات کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادویات اور لیبارٹری مواد کے اسٹریٹجک ذخائر میں غیر معمولی کمی واقع ہو چکی ہے۔

وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے یکم جون تک صرف 19 ہزار 500 سرجریز انجام دی جا سکی ہیں، جبکہ 2025 میں اسی مدت کے دوران تقریباً 65 ہزار آپریشن کیے گئے تھے۔ ادویات اور وسائل کی کمی کے باعث 11 ہزار سے زائد طے شدہ آپریشن ملتوی کر دیے گئے ہیں، جس سے ہزاروں مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بحران کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی کلیئرنس ریونیو کی مسلسل روک تھام ہے، جس کے باعث فلسطینی حکومت صحت کے شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی بدحالی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ اور عوام کا سرکاری صحت کی سہولیات پر بڑھتا ہوا انحصار بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے عالمی برادری، عطیہ دہندگان اور بین الاقوامی اداروں سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی فراہمی کے لیے 5 کروڑ امریکی ڈالر درکار ہیں، جبکہ بنیادی طبی خدمات کے تسلسل اور ضروری ادویات کی دستیابی کے لیے مزید 5 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔

ریاستِ فلسطین نے خبردار کیا ہے کہ صحت کے شعبے کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے اور عالمی برادری، انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور امدادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے فلسطینی نظامِ صحت کی معاونت کریں اور فلسطینی مریضوں کے علاج اور زندگی کے حق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

 

Ads