ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے تحت کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے پہلے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں، یہ مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران کو خاص رعایتوں کے بغیر بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کرنے کی منظوری دینے سے گریزاں ہیں، خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے، جوہری سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے۔
یروشلم پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکرات کار کسی تاخیر کے بغیر، دونوں فریقوں کے درمیان ابتدائی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوتے ہی ضبط شدہ فنڈز سے فوری طور پر "نقدی" تک رسائی چاہتے ہیں۔ امریکی حکام واضح ہیں کہ پابندیوں میں ریلیف صرف اسی صورت میں دیا جائے گا جب ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس یقین دہانیاں کرائے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تشویش محض سطحی نہیں ہے۔ اگر فنڈز تیزی سے جاری کیے جاتے ہیں، تو یہ ایران کو ایک اقتصادی سہارا فراہم کرے گا، جبکہ امریکہ کو اس کے سب سے طاقتور سودے بازی کے آلے ’اقتصادہ باو‘ جس کو بنانے میں اس نے برسوں صرف کئے ہیں ھاتھ سے چلاجا ئے گا۔
سینئر حکام نے علاقائی ثالثوں پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران پہلے ٹھوس اور موثر اقدامات نہیں کرتا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد اپنی جوہری سرگرمیوں اور سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی اہم فنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اوباما کے 2015 کے معاہدے سے ملتا جلتا کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، جس میں ایران کو 1.7 بلین ڈالر کی رقم جاری کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ایران اب تقریباً 12 بلین ڈالر کا مطالبہ کر رہا ہے اور ٹرمپ کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیروں نے ایسے انتظامات پر غور کیا ہے جس میں قطر جیسا تیسرا ملک ایران کو فنڈز جاری کرے گا، اس طرح امریکہ کی جانب سے براہ راست ادائیگیوں سے گریز کیا جائے گا۔ ثالثوں نے ایک درمیانی تجویز پیش کی ہے، جس میں ملٹی بلین ڈالر کے "انسانی ہمدردی کے فنڈ" کی تشکیل بھی شامل ہے جسے صرف خوراک، ادویات اور زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک، کسی بھی فریق نے اس تعطل کو توڑنے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔
