موسیٰ جی اور موکوہلانی 1 جون کو ڈھاکہ پہنچے، جہاں انہوں نے بی سی بی کی ایڈہاک کمیٹی کے ارکان بشمول صدر تمیم اقبال سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ، وفد نے بی سی بی کے الیکشن کمیشن کے ارکان سے بھی بات چیت کی، جہاں 7 جون کو انتخابات ہونا طے پائے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق، آئی سی سی کے اس وفد نے بی سی بی کے ان ڈائریکٹرز سے بھی ملاقات کی جنہوں نے پچھلے بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ نہ دینے والے ڈائریکٹرز میں سے آصف اکبر اور احسن اقبال چوہدری نے 2 جون کو ایک علیحدہ ملاقات میں آئی سی سی وفد سے گفتگو کی۔
ان ملاقاتوں کے بعد، بنگلہ دیش کے سابق کپتان امین الاسلام، جو اپریل تک بی سی بی کے صدر تھے، نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 7 جون کو یا کسی بھی دوسرے وقت ایڈہاک کمیٹی کے زیرِ اثر ہونے والے کسی بھی انتخاب کو تسلیم نہ کرے۔ امین الاسلام، جو اب بھی خود کو بی سی بی کا صدر مانتے ہیں، کا کہنا تھا کہ بی سی بی کی ایڈہاک کمیٹی کو آئی سی سی وفد کے دورہِ بنگلہ دیش کے حوالے سے جاری کردہ اپنے 31 مئی کے پریس ریلیز کی تصدیق اور تصحیح کرنی چاہیے۔
اسی دوران، بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے اس رٹ پٹیشن (درخواست) کو مسترد کر دیا ہے جس میں 7 جون کو ہونے والے بی سی بی انتخابات کے شیڈول اور ووٹر لسٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس بھیشمادیو چکرورتی اور جسٹس محمد آصف حسن کے بنچ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ اسے عدالت کے سامنے درست طریقے سے پیش نہیں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ درخواست 18 مئی کو دائر کی گئی تھی، جو کہ ملک کی وزارتِ کھیل کی جانب سے 7 اپریل کو بی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کے ایک ماہ بعد سامنے آئی۔ وزارتِ کھیل نے اسی دن سابق کپتان تمیم اقبال کی قیادت میں 11 رکنی ایڈہاک کمیٹی مقرر کی تھی۔
