Masarrat
Masarrat Urdu

حزب اللہ کو نظرانداز یا ختم نہیں کیا جاسکتا، بیروت پر حملے کی صورت میں سخت جواب دیں گے، عراقچی

Thumb

تہران، 4 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی بیروت پر صہیونی حکومت کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے ایرانی انتباہ نے مخالف فریق کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ جب ایران نے اعلان کیا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا تو مخالف فریق کو اپنی حساب کتاب پر نظرثانی کرنا پڑی۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ عقل و تدبر کا راستہ اختیار کریں تو وہ کبھی بھی دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے۔

عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران طویل مدت تک جنگ جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری عسکری صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ملک میں قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری عزم و ارادہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کی فوجی صورتحال جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو چکی ہے۔ آج ہمارے پاس ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو جنگ سے پہلے نہیں تھیں، جبکہ ملک کی دفاعی صنعت بھی نمایاں طور پر فعال اور مضبوط ہوئی ہے۔

عراقچی نے واضح کیا کہ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران جنگ کا خواہش مند ہے۔ ہم کبھی جنگ نہیں چاہتے تھے، نہ ہم نے یہ جنگ شروع کی اور نہ ہی مذاکرات کی درخواست کو مسترد کیا، بلکہ ہم نے اس کا مثبت جواب دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا مضبوط، فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا، اور حالیہ دو جنگوں میں یہ حقیقت ثابت بھی ہو چکی ہے۔

لبنان کی صورتحال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں ایران کا مؤقف ابتدا سے لے کر آخر تک واضح اور ثابت قدم رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے حزب اللہ کے مقام و حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ حزب اللہ لبنان، اس کے معاشرے اور سیاسی ڈھانچے کا ایک حصہ ہے، اور کوئی بھی اسے ختم یا نظرانداز نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ کو نشانہ بنانے اور انہیں شہید کرنے کی وسیع کوششوں کے باوجود حزب اللہ کے اصولوں اور بنیادوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کے داخلی مسائل تمام سیاسی اور سماجی دھڑوں کی شمولیت اور لبنانی گروہوں کے باہمی مکالمے کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔

عراقچی نے کہا کہ حزب اللہ اپنے حامیوں اور سماجی بنیاد کے مفادات اور مطالبات کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں شیخ نعیم قاسم کی قیادت کے انداز پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، بلکہ میرا خیال ہے کہ وہ ہماری توقعات سے بھی زیادہ مضبوط اور مؤثر انداز میں سامنے آئے ہیں۔ شیخ قاسم میدان میں آئے، قیادت سنبھالی اور انتہائی جرات کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن رہے۔ میں ان کے لیے بے حد احترام رکھتا ہوں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

عراقچی نے کہا کہ لبنان کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے تمام لبنانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور اس بات پر زور دیا کہ ایران لبنان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لبنان کو ایک متحد اور مکمل ملک کے طور پر دیکھتے ہیں اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

عراقچی نے صہیونی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل بیروت پر حملہ کرے تو ہم اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے۔

Ads