Masarrat
Masarrat Urdu

ہند-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ نافذ، نئے تجارتی راہداری کو رفتار ملی

Thumb

نئی دہلی، یکم جون (مسرت ڈاٹ کام) ہند اور عمان کے درمیان تاریخی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) پیر سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت ہندوستان کی مختلف بندرگاہوں سے جواہرات، زیورات اور دیگر اشیا کی کھیپ نئی رعایتی کسٹم ڈیوٹی نظام کے تحت عمان روانہ کی جانے لگی ہے۔

دونوں ممالک نے اس معاہدے کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے نئے دور کا آغاز بتایا ہے۔

ہند۔عمان سیپا پر گزشتہ 18 دسمبر کو مسقط میں ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کی موجودگی میں دستخط کیے گئے تھے۔ دونوں ممالک نے چھ ماہ کے اندر اپنی داخلی کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے اسے یکم جون 2026 سے نافذ کر دیا۔

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور ہندوستان میں عمان کے سفیر عیسیٰ صالح الشیبانی کی موجودگی میں آج نئی دہلی کے کمرش ہاؤس میں خصوصی تقریب کے دوران اس معاہدے کے نفاذ کی رسمی کارروائی مکمل کی گئی، جس میں وزیر مملکت برائے تجارت جتین پرساد بھی شریک تھے۔

معاہدے کے نفاذ کے موقع پر ممبئی، کولکاتا اور چنئی سے زرعی مصنوعات اور جواہرات و زیورات کی پہلی کھیپ رعایتی محصولات کے ساتھ عمان روانہ کی گئی۔ مالی سال 2025-26 میں ہند اور عمان کے درمیان دوطرفہ تجارت 11.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے 10.61 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

پیوش گوئل نے اس معاہدے کا سہرا وزیر اعظم مودی اور سلطان عمان کی قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ ہند–عمان سیپا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے کسانوں، ماہی گیروں، نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد اور چھوٹے و متوسط درجے کے اداروں کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کی 99.38 فیصد برآمدات کو عمان میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمد کنندگان اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق عمان ہندوستان کا قابل اعتماد شراکت دار، عوامی روابط کا پل اور خلیجی خطے و مشرقی افریقہ کا دروازہ ہے، جبکہ یہ معاہدہ ہندوستان کو علاقائی اور عالمی ویلیو چین سے مزید جوڑے گا۔

ہندوستان نے عمان سے درآمد ہونے والی 77.79 فیصد اشیا پر کسٹم میں نرمی کی پیشکش کی ہے، جو قیمت کے لحاظ سے عمان سے آنے والی 94.81 فیصد درآمدات کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ حساس شعبوں کے لیے حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔

تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی باہمی صلاحیتوں، ضابطہ جاتی تعاون اور مشترکہ ترقی کے عزم پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ٹیرف میں کمی کا معاہدہ نہیں بلکہ مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، خدماتی تجارت کو آسان بنانے اور کاروبار کے لیے زیادہ پیش گوئی والا ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

 

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے سے دوطرفہ تجارت، برآمدات، روزگار کے مواقع اور اقتصادی انضمام میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ عمان نے امریکہ کے بعد صرف ہندوستان کے ساتھ اس نوعیت کا معاہدہ کیا ہے۔ اس کے تحت عمان کے لاجسٹک مراکز جیسے صحار، دقم اور صلالہ ہندوستان کے علاقائی تجارتی روابط کو مضبوط کریں گے۔

 

اس معاہدے سے ہندوستانی دوا ساز صنعت کو عمانی مارکیٹ میں تیز رسائی ملے گی۔ وہ جنیرک ادویات جنہیں امریکہ، یورپ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے ضابطہ کار اداروں سے منظوری حاصل ہے، انہیں 90 دن کے اندر عمان میں فروخت کی اجازت مل جائے گی، جبکہ جہاں معائنہ ضروری ہوگا وہاں 270 کام کے دنوں میں عمل مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

 

اس معاہدے میں اشیا، خدمات، پیشہ ورانہ نقل و حرکت، ضابطہ جاتی تعاون اور غیر ٹیرف رکاوٹوں سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔ یہ صرف محصولات میں کمی تک محدود نہیں بلکہ طویل مدتی اقتصادی ڈھانچے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

 

اس کے تحت ہندوستان کی تمام سمندری مصنوعات، جن میں جھینگے، مچھلی اور کٹل فش شامل ہیں، کو عمان میں فوری ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ جواہرات اور زیورات پر پانچ فیصد تک عائد درآمدی ڈیوٹی بھی پہلے ہی دن ختم کر دی گئی ہے، جس سے ہندوستان کو دیگر مسابقتی ممالک پر برتری حاصل ہوگی۔

خدماتی شعبے میں عمان نے 127 ذیلی شعبوں میں ہندوستانی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے وسیع مارکیٹ رسائی فراہم کی ہے۔ پیوش گوئل نے کہا کہ عمان میں تقریباً سات لاکھ ہندوستانی نژاد افراد رہتے ہیں، اور معاہدے کے تحت مزدوروں اور پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہندوستان سے کاروباری مقاصد کے لیے جانے والے افراد 90 دن جبکہ آزاد پیشہ ور 180 دن تک عمان میں قیام کر سکیں گے، جبکہ کمپنیوں کے اندر تبادلۂ تقرری پر جانے والے افراد چار سال تک وہاں رہ سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمان ہندوستانی برآمدی فروغ کونسلوں (ای پی سی) کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس کو لازمی طور پر تسلیم کرے گا، جس سے بار بار جانچ اور معائنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

 

 

Ads