انہوں نے کہا کہ ایران کو مخالف فریق کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں پیش رفت کا واحد معیار ’حقیقی اور قابلِ تصدیق نتائج‘ ہوں گے۔ قالیباف کے مطابق ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر ممکن معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر رکھتا ہے، اور جب تک ان حقوق کی ضمانت نہیں ملتی، تہران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اس لیے ایران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے کا حصہ بنے گا جب اس کے عملی نتائج واضح ہوں۔
