وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ہندوستان میں مقیم تمام غیر قانونی شہریوں کے معاملات قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بنگلہ دیشی حکام کو ایسے 2,680 معاملات بھیجے ہیں جن میں بنگلہ دیشی شہریوں کے غیر قانونی طور پر بھارت میں قیام کا ذکر ہے۔ بنگلہ دیش کو ان افراد کی شہریت کی تصدیق کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی معاملات میں گزشتہ پانچ برسوں سے بنگلہ دیش کی طرف سے یہ جواب نہیں ملا کہ آیا یہ افراد بنگلہ دیش کے شہری ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے جواب موصول ہونے کے بعد ان غیر قانونی شہریوں کو واپس بھیجا یا ملک بدر کیا جا سکے گا۔
رندھیر جیسوال نے کہاکہ "شہریت کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہم ان بنگلہ دیشی شہریوں کو واپس بھیجنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کئی معاملات میں یہ تصدیق پانچ سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس مسئلے پر بنگلہ دیش کی طرف سے جلد جواب ملے گا۔"
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدے میں غیر قانونی شہریوں کی ملک بدری کی شق موجود ہے۔
غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیر بحث ہے، اور بھارت میں اسے قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے اس پر سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔
