Masarrat
Masarrat Urdu

سہ لسانی پالیسی پر سپریم کورٹ کا نوٹس،مرکز سے جواب طلب

Thumb

نئی دہلی،27 مئی (مسرت ڈاٹ کام) چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سی بی ایس ای کے اس سرکولر پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے جس کے تحت نویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تین زبانیں پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں سے دو ہندوستانی زبانیں ہونی چاہئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس پالیسی کے نفاذ میں "لاجسٹک مسائل" (جیسے اساتذہ اور درسی کتب کی دستیابی) درپیش ہو سکتے ہیں، جن کی گہری چھان بین ضروری ہے۔

چیف جسٹس کانت نے ایک مثبت پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "زیادہ زبانیں سیکھنے سے وفاقی ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے"۔عدالت نے اس معاملے کو موسمِ گرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھلنے والے پہلے ہفتے میں ترجیحی بنیادوں پر سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے دلیل دی کہ اچانک اس پالیسی کے نفاذ سے طلبہ کے موجودہ لسانی امتزاج (جیسے تامل، انگریزی اور فرنچ) متاثر ہوں گے۔ اب طلبہ کو زبردستی ایک اضافی ہندوستانی زبان پڑھنی اور پاس کرنی ہوگی۔

سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے آئینی حقوق اور وفاقیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زبان کا انتخاب بنیادی طور پر ایک فرد کی اپنی مرضی ہونی چاہیے۔ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے یقین دہانی کرائی کہ بورڈ طلبہ کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا اور عدالت کے احکامات کے مطابق ہی کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔ عدالت نے حکومت سے انفراسٹرکچر اور اساتذہ کی تیاری کے حوالے سے اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی ہے۔یہ عرضی سی بی ایس ای کے 15 مئی کے اس سرکولر کے خلاف دائر کی گئی ہے جو قومی تعلیمی پالیسی 2020 (این ای پی ) کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق جولائی 2026 سے کلاس 6 تا 9 میں داخل ہونے والے طلبہ کو تین زبانیں پڑھنا ہوں گی۔ان میں سے کم از کم دو زبانیں ہندوستانی ہونا لازمی ہیں۔دہلی، گڑگاؤں، نوئیڈا اور چنئی کے والدین اور اساتذہ نے اسے تعلیمی بوجھ قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے۔

 

Ads