کواڈ ممالک ہندوستان، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے وزرائے خارجہ کی منگل کو یہاں ہونے والی میٹنگ کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نہ صرف بڑے چیلنجز درپیش ہیں بلکہ غیر معمولی مواقع بھی موجود ہیں۔
رکن ممالک نے کہاکہ"تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سپلائی چینز پر دباؤ کے درمیان ہم اس بات کی دوبارہ توثیق کرتے ہیں کہ ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی بین الاقوامی قانون کی پابندی اور تنازعات کے پرامن حل پر منحصر ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم ہند-بحرالکاہل خطے اور اس سے باہر معاشی خوشحالی کو فروغ دینے میں جدت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور قابلِ اعتماد شراکت داریوں کی بے پناہ صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی غیر مستحکم یا یکطرفہ اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہیں جو موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے، خواہ وہ طاقت یا دباؤ کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ"ہم ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنی حمایت کی توثیق کرتے ہیں، جو ممالک کو اپنی مزاحمتی صلاحیت بڑھانے اور اپنے راستے خود متعین کرنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم تعاون کو مزید بڑھانے اور خطے کو عملی فائدہ پہنچانے والی مشترکہ پہل کو آگے بڑھانے پر متفق ہیں۔"
رکن ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق فیصلہ کن اور مسلسل بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیاکہ"رکن ممالک دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی واضح مذمت کرتے ہیں، جن میں سرحد پار دہشت گردی اور گزشتہ سال 22 اپریل کو پہلگام میں اور 14 دسمبر کو آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے شامل ہیں۔ ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اور مسلسل عالمی کوششوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کوششوں میں عالمی سطح پر پابندی عائد دہشت گردوں، دہشت گرد تنظیموں، ان کے معاونین، حمایتیوں، سرپرستوں اور مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔"
انہوں نے کہا کہ تمام رکن ممالک بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات، پرتشدد انتہا پسند عناصر اور دہشت گردی کے مقاصد کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے خطرات کو روکنے، ان کا پتہ لگانے اور ان کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ رکن ممالک نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کی امید ظاہر کی۔
رکن ممالک نے مشرقی چین سمندر اور جنوبی چین سمندر کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے خطے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کی۔
بیان میں کہا گیاکہ"ہم مشرقی چین سمندر اور جنوبی چین سمندر کی صورتحال پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ ہم کسی بھی ایسے غیر مستحکم یا یکطرفہ اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہیں—خواہ وہ طاقت یا جبر کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو—جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہو۔ ہم سمندری وسائل کی ترقی میں مداخلت، بحری اور فضائی نقل و حرکت کی آزادی میں رکاوٹ، فوجی طیاروں، کوسٹ گارڈ اور سمندری ملیشیا کے جہازوں کی خطرناک سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ جنوبی چین سمندر میں واٹر کینن اور فلیئرز کے غیر محفوظ استعمال، جہازوں کو ٹکر مارنے یا راستہ روکنے اور متنازع علاقوں کے عسکری سازی پر بھی سنجیدہ تشویش ظاہر کی گئی۔"
کواڈ ممالک نے اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق شمالی کوریا کے مکمل جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ قوانین کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
