مسٹر مدنی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو مقدس ماننے کے ساتھ اسے ’ماں‘ کا درجہ بھی دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھ سے باہر ہے کہ حکومت کس سیاسی مجبوری کی وجہ سے گائے کو قومی جانور قرار دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے نام پر پیٹ پیٹ کر قتل کرنے، مسلمانوں کو بدنام کرنے اور نفرت پھیلانے کا کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ اگر گائے کو قومی جانور قرار دے دیا جائے اور اس سلسلے میں سخت اور یکساں قانون بنایا جائے، تو نہ کسی انسان کی جان جائے گی اور نہ ہی مذہب کے نام پر سیاست ہوگی۔
جمیعتہ کے سربراہ نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں کھلے عام گائے کا میٹ فروخت اور کھایا جاتا ہے، لیکن وہاں نہ تو مخالفت ہوتی ہے اور نہ ہی ہجوم کے تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، وہاں گائے کے نام پر تشدد کے واقعات ہوتے ہیں، جو عقیدت نہیں بلکہ دوہرے معیار اور سیاسی کھیل کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پورے ملک میں ایک قانون کی بات کی جاتی ہے، تو جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قانون تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں گائے کے گوشت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور کچھ رہنماؤں کی طرف سے عوامی طور پر بیف کھانے کی بات بھی قبول کی جا چکی ہے۔
مسٹر مدنی نے کہا کہ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی گائے کے گوشت کی فروخت اور استعمال جاری ہے، لیکن گائے کے نام پر تشدد کرنے والے لوگ اس معاملے پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گائے کو قومی جانور قرار دے کر اس سے متعلق قانون ملک کی تمام ریاستوں میں بغیر کسی امتیاز کے یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔
