عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی دشمنانہ کارروائی کا جواب دینے کیلئے ایران امریکہ کے ساتھ سابقہ تصادم سے حاصل شدہ تجربات اور سبق سے فائدہ اٹھائے گا اور حملہ آوروں کو غیر متوقع جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اراکین کانگریس نے 40 روزہ فوجی مہم کے دوران ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصانات کو تسلیم کرکے دراصل ایران کی فوجی صلاحیتوں کی توثیق کی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی کانگریس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے دوران امریکی فوج نے کم از کم 42 طیارے کھوئے، جن سے ہونے والا تخمینی نقصان تقریباً 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج دنیا کے جدید ترین ایف-35 لڑاکا طیارے کو مار گرانے والی پہلی فورس بن گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ طور پر شروع کی گئی 40 روزہ فضائی بمباری مہم کے دوران امریکی فوج کے 42 طیارے یا تو تباہ ہوئے یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
ان میں چار ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ-2، ایک اے-10 تھنڈربولٹ-2، ہوا میں ایندھن بھرنے والے سات کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر، ایک ای-3 سینٹری فضائی نگرانی طیارہ، دو ایم سی-130 جے کمانڈو-2 طیارے، ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو جولی گرین-2 ہیلی کاپٹر، 24 ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایک ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ڈرون شامل ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جو 7 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد سے رکے ہوئے ہیں۔
ایران نے اس دوران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل سپلائی پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی سمت اقدامات کیے۔
یہ تفصیلات 13 مئی کو جاری ہونے والی ''کانگریشنل ریسرچ سروس'' کی رپورٹ میں سامنے آئیں، جس میں ''آپریشن ایپک فیوری'' کے دوران ہونے والے نقصانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تباہ شدہ طیاروں کی طویل مدتی متبادل لاگت 7 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض نظام اب فعال پیداوار میں نہیں ہیں اور ان کی پروڈکشن لائن دوبارہ شروع کرنا پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ای-3 سینٹری طیارے کے نقصان کے بعد پینٹاگون کو پہلے منسوخ کیا جا چکا ای-7 ویج ٹیل پروگرام دوبارہ شروع کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی لاگت 2.5 ارب ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔
اس دوران امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں سخت کر دیں، جس سے عالمی توانائی بازاروں میں بے چینی پیدا ہوئی اور امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال نے ڈونالڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ تنازع ''بہت جلد'' حل ہو جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔
ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکہ کے بڑھتے دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
