یہ ٹیسٹ آندھرا پردیش کے کرنول کے قریب ڈی آر ڈی او کی ٹیسٹنگ رینج میں ایک مربوط ’گراؤنڈ کنٹرول سسٹم‘ (جی سی ایس) کے استعمال سے انجام دیے گئے۔ اس جی سی ایس کو یو ایل پی جی ایم ہتھیار نظام کی کمانڈ اور کنٹرول کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس جدید نظام میں انتہائی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جو میزائل کی تیاری اور لانچ آپریشنز کو خودکار بناتی ہیں۔
یہ معلومات منگل کی دیر رات جاری کردہ ڈی آر ڈی او کے ایک بیان میں دی گئی ہیں۔
ریلیز کے مطابق میزائل نظام کی تیاری اور پیداوار کے لیے تنظیم نے حیدرآباد کی ’بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ‘ (بی ڈی ایل) اور ’اڈانی ڈیفنس سسٹمز اینڈ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ‘ کے ساتھ شراکت داری کی تھی۔ موجودہ تجربے کے لیے یو ایل پی جی ایم-وی3 کو بنگلورو کی ’نیواسپیس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجیز‘ کے تیار کردہ یو اے وی کے ساتھ مربوط کیا گیا تھا۔
اس میزائل کو حیدرآباد کے ’ریسرچ سینٹر عمارت‘ (آر سی آئی) نے تیار کیا، جس نے مرکزی تجربہ گاہ (نوڈل لیب) کے طور پر کام کیا۔ اس میں ڈی آر ڈی او کی دیگر تجربہ گاہوں، جیسے حیدرآباد کی ’دفاعی تحقیق و ترقی تجربہ گاہ‘ (ڈی آر ڈی ایل)، چنڈی گڑھ کی ’ٹرمینل بیلسٹکس ریسرچ لیبارٹری‘ (ٹی بی آر ایل) اور پونے کی ’ہائی انرجی میٹریلز ریسرچ لیبارٹری‘ (ایچ ای ایم آر ایل) کا بھی تعاون شامل رہا۔
اس میزائل کو مکمل طور پر ہندوستانی دفاعی ماحولیاتی نظام کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس میں کئی ایم ایس ایم ایز اور صنعتوں کی شمولیت رہی ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میزائل کے کامیاب ترقیاتی تجربات پر ڈی آر ڈی او، سرکاری شعبے کے اداروں، دفاعی پیداوار کے شراکت داروں اور صنعتی فریقوں کو مبارکباد دی۔ یہ تجربات ’فضا سے زمین‘ موڈ میں ٹینک شکن کردار کے ساتھ ساتھ ’فضا سے فضا‘ موڈ میں ڈرون، ہیلی کاپٹر اور دیگر فضائی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس کامیابی کو دفاعی پیداوار کے میدان میں خود انحصاری کی سمت ایک اہم اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا۔
دفاعی تحقیق و ترقی محکمہ کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین سمیر وی کامت نے بھی اس منصوبے سے وابستہ ٹیموں کو ان کی کامیاب حصولیابی پر مبارکباد دی۔
