وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سالانہ ''کانگریس پکنک'' تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا فیصلہ آخری لمحے میں روک دیا گیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ کھلی رہ سکے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کے حکم سے صرف ''ایک گھنٹہ'' دور تھے، مگر بعد میں اس فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے تقریباً 40 روز بعد 8 اپریل سے عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام سمیت کئی معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے مخصوص سخت انداز میں کہا کہ جب کسی ملک کو سخت دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایک اور بڑا حملہ بھی کر سکتا ہے۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایران جنگ بندی کے عرصے کو بھی جنگ کا حصہ سمجھتا ہے اور اس دوران اس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ایران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے چند دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر ایران پر ممکنہ نیا حملہ مؤخر کیا گیا، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی معیشت پر بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کے باعث عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ دوسری طرف ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر دھمکیوں کو امن کے مواقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
قطر نے اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے لیے مزید وقت درکار قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں بریفنگ کے دوران پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایرانی مؤقف پہنچایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے لیے پانچ نکات پیش کیے ہیں جن میں ایران کو صرف ایک ایٹمی تنصیب تک محدود رکھنے، افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے اور منجمد اثاثوں یا جنگی ہرجانے کے مطالبات سے دستبردار ہونے کا کہا گیا ہے۔ تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی ''تسنیم'' کے مطابق مجوزہ مسودے میں ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی تجویز بھی شامل ہے۔
دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 17 مئی 2026 کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اطراف بھیجے گئے تین مسلح ڈرونز عراق سے روانہ ہوئے تھے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ نتیجہ تکنیکی نگرانی اور تحقیقات کے بعد اخذ کیا گیا، جبکہ ایک اعلیٰ اہلکار نے اشارہ دیا کہ اس کارروائی میں ایران کے ممکنہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی فائبر آپٹک کیبلز کو مستقبل میں ایرانی اجازت نامے کے نظام کے تابع کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایران کے صوبہ کردستان میں عراق کی سرحد کے قریب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ایرانی فورسز کے مطابق شمالی عراق سے داخل ہونے والے گروہ امریکی اسلحہ اور گولہ بارود ایران اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
