مسٹر کھرگے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ حکومت نے 15 مئی کے بعد آج صبح اچانک پھر پٹرول اور ڈیژل کے قیمتیں بڑھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو گیا ہے کہ ہندوستان بحران میں ہے اور مسٹر مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ کانگریس صدر نے تیل کے دام چار دن میں دوسری بار بڑھانے کے فیصلے کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ مودی حکومت ناکامیوں کا بوجھ عوام کے سر پر ڈال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دام بڑھے چار ہی دن ہوئے کہ مودی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کے دام پھر بڑھا دیے۔ پوری تمہید باندھ کر، بچت کی نصیحت کرکے اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا کام جاری ہے۔ کانگریس صدر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’عام لوگوں کی لوٹ اور صنعت کار گوتم اڈانی کو امریکہ سے چھوٹ‘، یہی مودی جی کا ’کمپرومائزڈ ماڈل‘ ہے۔ وزیر اعظم نے امریکہ سے ہاتھ پیر جوڑ کر روسی تیل خریدنے کی اجازت کی مدت ایک مہینے کے لیے بڑھوائی ہے اور اس سے ہندوستان کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے مطابق روسی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے، تو پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں کا بوجھ عام لوگوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
مسٹرکھرگے نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں دوراندیشی اور قیادت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت حکومت انتخابات میں مصروف رہی اور بعد میں ’چکنی چپڑی باتیں کر کے لوٹ کا پلان‘ بنایا گیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ صرف بیرون ملک میں اسپانسر شدہ تعلقات عامہ کی سرگرمیاں کرنے سے کوئی ’وشو گرو‘ نہیں بن جاتا، عوام کے تئیں جوابدہی بھی یقینی بنانی پڑتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ہندوستان کے سامنے موجود سوالوں کا جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے، یہ ہندوستان کو بتایا جانا چاہیے۔
