Masarrat
Masarrat Urdu

زیر التوا اپیلیں بی جے پی کی جیت کے مارجن سے کم، ترنمول کانگریس نے سپریم کورٹ میں دی دلیل

Thumb

نئی دہلی 11 مئی (مسرت ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران نکالے گئے ناموں کا مغربی بنگال کے کئی اسمبلی حلقوں کے نتائج پر نمایاں اثر پڑا ہے۔

چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باغچی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ ترنمول کانگریس کے ارکان کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کلیان بنرجی نے کہا کہ 31 انتخابی حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ترنمول کانگریس پر جیت کا مارجن ایس آئی آر عمل میں نکالے گئے افراد کی تعداد سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں نکالے گئے ناموں اور ہار کے مارجن کی تعداد تقریباً برابر تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک انتخابی حلقے میں ایک امیدوار 862 ووٹوں سے ہار گیا، جبکہ وہاں ووٹر لسٹ سے 5,432 سے زائد لوگوں کے نام نکال دیے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ووٹوں کا فرق تقریباً 32 لاکھ تھا، جبکہ اپیلی ٹربیونلز کے سامنے تقریباً 35 لاکھ اپیلیں زیر التوا تھیں۔ جسٹس باغچی کے پچھلے تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر جیت کا مارجن نکالے گئے ووٹروں کی تعداد سے کم ہے، تو اس معاملے میں عدالتی تحقیقات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ان دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل صرف 'انتخابی عرضی' (الیکشن پٹیشن) ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ایس آئی آر سے متعلق مسائل اور ووٹوں کو شامل کرنے یا نکالنے کے خلاف ہونے والی اپیلوں کے لیے الیکشن پینل کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دیگر لوگ اپنے دعووں کے سلسلے میں نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد معاملے کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

 

Ads