Masarrat
Masarrat Urdu

مودی نے توانائی کے تحفظ کی اپیل دہرائی، کہا قوم کو مضبوط بنانے کے لیے سب مل کر کام کریں

Thumb

وڈودرا، 11 مئی (مسرت ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر توانائی کے تحفظ کے لیے ملک کے عوام سے کی گئی اپنی اپیل پر اپوزیشن کی تنقید کے باوجود پیر کے روز ایک بار پھر عوام سے درخواست کی کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے لیے میٹرو، الیکٹرک بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں۔

مسٹر مودی نے یہاں سردار دھام چھاترواس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے دنیا میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا ذکر کیا اور کورونا بحران، عالمی اقتصادی رکاوٹوں اور مغربی ایشیا کے تنازع کو موجودہ چیلنجوں کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک نے مل کر کورونا بحران کا سامنا کیا، اسی طرح اس بحران پر بھی اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جائے گا۔ انہوں نے کار پولنگ، ورچوئل میٹنگز اور ’ورک فرام ہوم‘ کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے عوامی شراکت داری کو نہایت ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا اور قومی وسائل پر دباؤ کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ خام تیل پر منحصر ہے، جو موجودہ تنازع والے علاقوں سے آتا ہے۔ اس سے سپلائی اور قیمت دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے عوام سے پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے لیے میٹرو، الیکٹرک بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال کی اپیل کی۔ ساتھ ہی کار پولنگ، ورچوئل میٹنگز اور ورک فرام ہوم کو فروغ دینے کی بھی درخواست کی۔

وزیر اعظم نے زرمبادلہ بچانے کے لیے خوردنی تیل کے استعمال میں کمی اور بحران کے وقت سونے کی خریداری مؤخر کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سفر اور ’ڈیسٹینیشن ویڈنگز‘ پر ہونے والا خرچ بھی زرمبادلہ پر دباؤ بڑھاتا ہے۔

انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی تعطیلات بھارت میں گزاریں اور شادی جیسے پروگراموں کے لیے بھارتی مقامات کا انتخاب کریں۔ انہوں نے ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کو ’ڈیسٹینیشن ویڈنگ‘ کے لیے ایک بہترین مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے زرمبادلہ ملک میں ہی برقرار رہے گا۔

’ووکل فار لوکل‘ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مقامی مصنوعات کو اپنانے، مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور زراعت میں دیسی کھاد، قدرتی کھیتی اور شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں کے استعمال کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ماحولیات پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

 

Ads