جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق چیئرپرسن پروفیسر انور پاشا نے اپنے کلیدی خطاب میں اردو کی تاریخی و ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو نے ہر دور میں رواداری اور محبت کا پیغام دیا ہے. انہوں نے کہا کہ اردو میں رامائن، مہابھارت اور گیتا کے تین سو سے زائد ترجمے شائع ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کا دامن کتنا وسیع ہے. انہوں نے کہا کہ جب تک ہندوستان کی مشترکہ تہذیب باقی رہے گی، اردو زندہ رہے گی.
صدر شعبۂ اردو پروفیسر سید آل ظفر نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں اردو کے مسلم اور غیر مسلم شعرا و ادبا اس کی تعمیر و ترقی میں ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے گلزار دہلوی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو کی سب سے مقبول صنف سخن غزل کو مطلع سے مقطع تک کہنے والے پہلے شاعر کا نام چندر بھان برہمن تھا جو کہ غیر مسلم تھے۔ انہوں نے پروگرام کی سرپرستی کے لیے وائس چانسلر پروفیسر دنیش چندر رائے اور سمینار میں شریک ہونے والے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے شعبہ کے استاد ڈاکٹر محمد امان اللہ نے کہا اردو ادب کی روشن تاریخ سے اگر غیر مسلم تخلیق کاروں کے نام ہٹا دیے جائیں تو اردو یتیم و بے سہارا نظر آئے گی.
خطبۂ صدارت پروفیسر فاروق احمد صدیقی سابق صدر شعبۂ اردوبابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی نے پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب لسانی اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے اس طرح کے موضوعات پر سمینار کا انعقاد فال نیک ہے ۔افتتاحی سیشن میں نظامت کے فرائض سابق صدر شعبۂ اردو بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی پروفیسرمحمد حامد علی خاں نے انجام دئیے۔اس موقع پر شعبہ کے ٹاپر طالب علم غلام غوث کو شعبہ کی طرف سے وائس چانسلر کے ہاتھوں اعزاز سے نوازا گیا.
پہلے تکنیکی سیشن میں فرمان الہدی، محمد کلیم الدین، ڈاکٹر نشاط فاطمہ، ڈاکٹر نشاط کوثر، محمد ارمان، ڈاکٹر جلال اصغر فریدی، ڈاکٹر دبیر احمد صدر شعبہ اردو مولانا آزاد کالج، کولکاتا، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی، پروفیسر سید حسن عباس سابق صدر شعبہ فارسی بنارس ہندو یونیورسٹی اور پروفیسر ابومنور گیلانی نے اپنے بیش قیمتی مقالے پیش کیے۔ اس سیشن کی صدارت پروفیسر فاروق احمد صدیقی، پروفیسر انور پاشا اور پروفیسر ستیش کمار رائے نے کی.
پروگرام کا آغاز شعبہ کے طالب علم انضام الحق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ شعبہ کی طالبات زینب یاسمین، شبستاں پروین،شبانہ خاتون اور نور سلیمہ نے یونیورسٹی کل گیت پیش کیا۔
سمینار میں پروفیسر نوا شرما، پروفیسر انیتا سنگھ، پروفیسر محمد اقبال، پروفیسر مدھر کمار، پروفیسر محبوب اقبال، ڈاکٹر محمد سلیم، ڈاکٹر محمد ارمان، ڈاکٹر ریحان غنی، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، ڈاکٹر سید عباس شاہ، ڈاکٹر شبنم پروین، ڈاکٹر نشاط کوثر، ڈاکٹر حسن رضا، ڈاکٹر مبشرہ صدف، ڈاکٹر وسیم رضا، ڈاکٹر مستفیض احد، ڈاکٹر طلعت پروین، اقبال سمیع کے علاوہ کثیر تعداد میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، طلبہ و طالبات موجود تھے.
