پوپ کا کہنا تھا کہ ان کے افریقہ دورے کا مقصد امن کا فروغ ہے، ذاتی محاذ آرائی نہیں، ٹرمپ کی تنقید کے باعث سیاسی صورت حال پر غلط تبصرے ہوئے، جنھیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ ویٹیکن اور واشنگٹن کے درمیان کئی مہینوں سے کشیدہ تعلقات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کی وجہ امریکہ کی امیگریشن پالیسیوں اور ایران میں جنگ سے متعلق اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون کے عہدیداروں نے ہولی سی (ویٹیکن) کو سخت انتباہات بھی جاری کیے تھے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق پوپ لیو چہار دہم کا امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بہ یک وقت علامتی اور سیاسی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اہم موقع میں شریک ہونے کی بجائے، پہلے امریکی نژاد پوپ ایک یورپی مہاجرین کے داخلہ مرکز پر موجود ہوں گے، جس سے پس ماندہ طبقات کے ساتھ ان کی وابستگی نمایاں ہوتی ہے۔
