غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق روس نے ایران سے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور ایسے حل تلاش کرنا ضروری ہے جن سے تنازعے کی جڑ ہی ختم اور خطے میں طویل المدتی استحکام قائم ہو۔ سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صورت دوبارہ تصادم نہیں ہونا چاہیے، روس بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
دوسری جانب روس نے ایران کو افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی دوبارہ پیش کش کر دی ہے، کریملن نے بھی تصدیق کر دی، ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ پیش کش تاحال قبول نہیں کی گئی ہے۔ ترکیہ ٹوڈے کے مطابق روس نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی مستقبل کے امن معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔ کریملن کے مطابق یہ تجویز پہلے ہی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے امریکہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ رابطوں میں پیش کی جا چکی ہے۔
