Masarrat
Masarrat Urdu

مودی نے ناری شکتی کے نام خط لکھا، خواتین کے ریزرویشن کے حوالے سے عزم کا اعادہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 14 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیئے جانے والی ترمیمی بل سے قبل حزب اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشمکش کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو اس دیرینہ اصلاحات کو نافذ کرنے کے حکومت کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی خواتین قانون ساز اداروں میں اپنے لیے ریزرویشن یقینی بنانے کی حکومتی پہل کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر "ناری شکتی" کے نام ایک پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا، "پورے ہندوستان کی خواتین قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن یقینی بنانے کی اس پہل کی ستائش کر رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "یہ ہندوستان کی ناری شکتی کے نام میرا خط ہے، جس میں ہم دہائیوں سے زیر التوا اس کام کو نافذ کرنے کے اپنے عزم کو دہرا رہے ہیں۔" اپنے پیغام میں مودی نے قوم کی تعمیر میں خواتین کے کردار پر زور دیا اور پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی شرکت بڑھانے کے حکومتی مقصد کو اجاگر کیا۔ اس خط کو ملک بھر کی خواتین سے براہ راست جڑنے اور جمہوری اداروں میں ان کی شرکت کی اہمیت کو واضح کرنے کی ایک وسیع کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل پیر کو 'ناری شکتی وندن' پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے ترمیمی بل کو 21 ویں صدی کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مکمل طور پر خواتین کی طاقت کے لیے وقف ہے۔ وزیر اعظم نے اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی پارلیمنٹ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے قریب ہے جو ماضی کے تصورات اور مستقبل کے عزم کو پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان 21 ویں صدی کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک کرنے جا رہا ہے، ایک ایسا فیصلہ جو ناری شکتی کے لیے وقف ہے۔" مودی نے ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کو یقین دلایا کہ قوم ان کی خواہشات کو سمجھتی ہے اور ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ناری شکتی نے اپنی محنت، ہمت اور خود اعتمادی کے بل بوتے پر نئی بلندیوں کو چھوا ہے، لہٰذا ہمیں اجتماعی طور پر اس طاقت کو نئی توانائی فراہم کرنی چاہیے اور ان کے لیے مواقع وسیع کرنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ اس بل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خط و کتابت سے لے کر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں حکومت اس بل کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اسے جلد از جلد پاس کرانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کے ذریعے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت کو اسمبلی انتخابات کے بعد کل جماعتی اجلاس بلا کر اس بل پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

 

Ads