میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’ ہم اس عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ضروری وقفہ ہے جس نے معصوم جانوں کے مزید نقصان کو روکا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران کو ٹال دیا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں گئی ہیں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، یہ جنگ بندی مزید تباہی کو روکنے اور بامعنی مذاکرات کی طرف بڑھنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عارضی جنگ بندی کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے جارحیت کا مکمل خاتمہ، ممالک کی خودمختاری کا احترام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی طے کرنا ضروری ہے۔امیر جماعت نے موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’ حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور کشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور ہندوستان سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔ لہٰذا امریکہ اور اسرائیل، جنہوں نے اس غیر منصفانہ اور بلا وجہ جنگ کا آغاز کیا تھا پر لازم ہے کہ وہ سنجیدہ سفارتی مذاکرات کی جانب تیزی سے پیش رفت کرے۔ اس سلسلے میں فریقین کی جانب سے غفلت نہیں برتی جانی چاہئے کیونکہ فی الحال یہ جنگ بندی عارضی ہے اور صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اس موقع پر امیر جماعت نے اسرائیل کی جانب سے اہم شخصیات کو چن چن کر نشانہ بنانے کی پالیسی پر بھی شدید تنقید کی اور اسے وحشیانہ جنگی جرم قرار دیا۔ اس موقع پر امیر جماعت نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر جنگ بندی کچھ مخصوص علاقوں تک محدود رکھی جائےاور دیگر علاقوں میں یہ جاری رہے تو اس سے عدم استحکام اور انسانی بحران کو مزید بڑھاوا ملے گا‘‘۔
امیر جماعت نے باہمی گفت و شنید سے مسئلے کے حل پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’حالیہ تنازع ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پیچیدہ سیاسی مسائل کے حل میں فوجی طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے باوجود صورتحال بالآخر مذاکرات کی طرف ہی لوٹ آئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ پائیدار حل صرف بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ طاقت کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کی کوششیں نہ صرف عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں بلکہ انسانی مصائب اور علاقائی تقسیم کو بھی مزید گہرا کرتی ہیں۔
