دوسری جانب ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے جزیرہ خارگ میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل ایئر ٹریفک مانیٹرنگ سے وابستہ ایک ذریعے نے تاس کو بتایا تھا کہ خلیج کے غیر جانب دار پانیوں کے اوپر نورثروپ گرومن ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن ماڈل کا ایک امریکی جاسوس ڈرون دیکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ ڈرون اٹلی کے سیگونیلا فوجی اڈہ سے اڑا اور جزیرہ خارگ کے قریب 14 کلومیٹر سے زائد بلندی پر پرواز کرتے ہوئے نگرانی کرتا رہا۔
اطلاعات کے مطابق ڈرون نے کچھ دیر تک علاقے کی نگرانی کی اور پھر شمال کی جانب رخ کر کے واپس لوٹ گیا۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے ڈرون وسیع علاقوں کی نگرانی اور فوری انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ بوئنگ پی-8 پوسیڈن جیسے طیاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں ایک انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ امریکہ جزیرہ خارگ پر قبضے کے مختلف آپشنز پر غور کر سکتا ہے اور اس صلاحیت کا حامل ہے۔
